انوکھا واقعہ: زوردار جمائی سے خاتون کی گردن کی ہڈی سرک گئی
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
جمائی لینا بظاہر ایک معمولی سی بات لگتی ہے، لیکن برطانیہ میں ایک 36 سالہ خاتون کے لیے یہ معمولی حرکت زندگی بدل دینے والا واقعہ بن گئی۔ہیلی بلیک نامی خاتون زوردار جمائی لینے کے باعث گردن کی ہڈی متاثر ہونے کے بعد مہینوں وہیل چیئر پر رہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ حیران کن واقعہ اس وقت پیش آیا جب ہیلی علی الصبح اپنی نومولود بیٹی کو دودھ دینے کے لیے بیدار ہوئیں۔ بیٹی کو جمائی لیتے دیکھ کر ہیلی نے بھی جمائی لی، مگر اسی لمحے انہیں جسم میں جھٹکا سا محسوس ہوا اور ان کا ایک بازو بے حس ہو کر ہوا میں معلق رہ گیا۔
ہیلی کے شوہر نے فوری طور پر ایمبولینس بلائی اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹرز بھی ابتدائی طور پر معاملے کو سمجھنے سے قاصر رہے، تاہم **اسکین کے بعد انکشاف ہوا کہ جمائی کے دوران ہیلی کی گردن کی C6 اور C7 ہڈیاں اپنی جگہ سے سرک کر ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ ڈال رہی تھیں۔
ماہرین نے اسے ایک نایاب اور پیچیدہ کیس قرار دیا، اور بتایا کہ ہیلی کے بچنے کے امکانات صرف 50 فیصد تھے۔ فوری سرجری کی گئی اور خوش قسمتی سے ہیلی کی جان بچا لی گئی۔ وہ 6 ماہ تک وہیل چیئر پر رہیں، لیکن مسلسل علاج اور بحالی کے بعد اب وہ مکمل طور پر صحتیاب ہو چکی ہیں۔
تاہم ہیلی کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی جمائی لیتے ہوئے ڈر جاتی ہیں۔ “جمائی دبانے کی کوشش میں بار بار وہ لمحہ یاد آ جاتا ہے، اور صحتیابی کے باوجود میں آج بھی گردن، کمر اور بازوؤں میں درد محسوس کرتی ہوں۔
یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ انسانی جسم انتہائی حساس نظام رکھتا ہے، اور معمولی حرکات بھی بعض اوقات بڑے مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔