تنازعات سے بھرپور ایشیا کپ 2025 اختتام پزیر، اگلا ایونٹ اب کب اور کہاں ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کو شکست دے کر تیسری بار مسلسل برتری حاصل کرلی۔ سنسنی خیز مقابلے میں بھارت نے آخری اوور میں پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔
بھارتی اسپنر کلدیپ یادو نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 30 رنز کے عوض 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ تلک ورما نے 53 گیندوں پر ناقابلِ شکست 69 رنز اور شیوم دوبے نے 22 گیندوں پر 33 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو 9ویں ایشیائی ٹائٹل تک پہنچایا۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ جیتنے پر بی سی سی آئی نے بھارٹی کرکٹ ٹیم پر انعامات کی بارش کردی
اس جیت کے ساتھ ہی بھارت نے پاکستان کے خلاف اپنی فتوحات کا سلسلہ بڑھا کر 8 میچز تک بڑھا دیا ہے۔
بھارت کی فتح کے بعد شائقین اور ماہرین کی نظریں اب ایشیا کپ کے اگلے ایڈیشن پر مرکوز ہیں۔
اگلا ایشیا کپ کب ہوگا؟
اگلا ایشیا کپ 2027 کے ورلڈ کپ سے قبل کھیلا جائے گا۔ حتمی تاریخوں اور شیڈول کا اعلان فی الحال ابھی باقی ہے، تاہم امکان ہے کہ یہ ٹورنامنٹ بھارتی آئی پی ایل سیزن کے بعد منعقد ہوگا۔
اگلا ایشیا کپ کہاں ہوگا؟
ایشیا کپ 2027 کی میزبانی بنگلہ دیش کرے گا۔ یہ ایڈیشن ون ڈے فارمیٹ میں کھیلا جائے گا تاکہ ٹیمیں جنوبی افریقہ، نمیبیا اور زمبابوے میں شیڈول آئی سی سی ورلڈ کپ 2027 کی تیاری کر سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی پی ایل ایشیا کپ بنگلہ دیش بھارت پاکستان ورلڈ کپ ورلڈ کپ 2027 ون ڈے فارمیٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئی پی ایل ایشیا کپ بنگلہ دیش بھارت پاکستان ورلڈ کپ ورلڈ کپ 2027 ون ڈے فارمیٹ ایشیا کپ ورلڈ کپ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔