ایشیا کپ 2025 کے فائنل میں بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کو شکست دے کر تیسری بار مسلسل برتری حاصل کرلی۔ سنسنی خیز مقابلے میں بھارت نے آخری اوور میں پانچ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی۔

بھارتی اسپنر کلدیپ یادو نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 30 رنز کے عوض 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ تلک ورما نے 53 گیندوں پر ناقابلِ شکست 69 رنز اور شیوم دوبے نے 22 گیندوں پر 33 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو 9ویں ایشیائی ٹائٹل تک پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ جیتنے پر بی سی سی آئی نے بھارٹی کرکٹ ٹیم پر انعامات کی بارش کردی

اس جیت کے ساتھ ہی بھارت نے پاکستان کے خلاف اپنی فتوحات کا سلسلہ بڑھا کر 8 میچز تک بڑھا دیا ہے۔

بھارت کی فتح کے بعد شائقین اور ماہرین کی نظریں اب ایشیا کپ کے اگلے ایڈیشن پر مرکوز ہیں۔

اگلا ایشیا کپ کب ہوگا؟

اگلا ایشیا کپ 2027 کے ورلڈ کپ سے قبل کھیلا جائے گا۔ حتمی تاریخوں اور شیڈول کا اعلان فی الحال ابھی باقی ہے، تاہم امکان ہے کہ یہ ٹورنامنٹ بھارتی آئی پی ایل سیزن کے بعد منعقد ہوگا۔

اگلا ایشیا کپ کہاں ہوگا؟

ایشیا کپ 2027 کی میزبانی بنگلہ دیش کرے گا۔ یہ ایڈیشن ون ڈے فارمیٹ میں کھیلا جائے گا تاکہ ٹیمیں جنوبی افریقہ، نمیبیا اور زمبابوے میں شیڈول آئی سی سی ورلڈ کپ 2027 کی تیاری کر سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی پی ایل ایشیا کپ بنگلہ دیش بھارت پاکستان ورلڈ کپ ورلڈ کپ 2027 ون ڈے فارمیٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئی پی ایل ایشیا کپ بنگلہ دیش بھارت پاکستان ورلڈ کپ ورلڈ کپ 2027 ون ڈے فارمیٹ ایشیا کپ ورلڈ کپ

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان