پی ایم ڈی سی نے پوسٹ گریجویٹ پروگرامز میں 20 کروڑ روپے کی مالی بے ضابطگی بے نقاب کردی WhatsAppFacebookTwitter 0 29 September, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے 20 کروڑ روپے کے مالی نقصان کا احساس ہونے کے بعد ان اداروں سے رقم کی وصولی کے طریقہ کار پر غور شروع کردیا ہے جنہوں نے گزشتہ دو برسوں میں پوسٹ گریجویٹ پروگرامز شروع کیے تھے۔ کونسل کے ایک عہدیدار کے مطابق معاملہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل ایجوکیشن کمیٹی کو بھیجا جائے گا تاکہ وہ اس پر مزید غور کرے۔دستاویزات کے مطابق یہ مسئلہ اگست 2025 میں اس وقت سامنے آیا جب کراچی کی ایک یونیورسٹی نے اپنے 20 پوسٹ گریجویٹ پروگرامز کی رجسٹریشن کی درخواست دی،

ڈپٹی رجسٹرار ڈاکٹر حبیب اللہ نے نشاندہی کی کہ یونیورسٹی نے کسی بھی پروگرام کے لیے 8 لاکھ روپے کی ون ٹائم کمپری ہینسو انسپیکشن فیس (سی آئی ایف ) جمع نہیں کرائی۔یونیورسٹی سے رابطے کے بعد انکشاف ہوا کہ پی ایم ڈی سی نے پہلے کسی بھی کورس کی رجسٹریشن کے لیے یہ فیس وصول ہی نہیں کی تھی۔ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دستاویزات دیکھنے کے بعد یہ حیران کن بات سامنے آئی کہ گزشتہ 2 برسوں میں تقریبا 20 یونیورسٹیوں نے اپنے پوسٹ گریجویٹ کورسز رجسٹرڈ کرائے لیکن کسی ایک نے بھی کمپری ہینسو انسپیکشن فیس ادا نہیں کی

، اس طرح مجموعی رقم 20 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔پی ایم ڈی سی پوسٹ گریجویٹ ریگولیشنز 2023 کے مطابق ہر یونیورسٹی کو فی کورس 3 لاکھ روپے سیکریٹریٹ چارجز، 8 لاکھ روپے سی آئی ایف، ایک لاکھ روپے درخواست فیس اور 1.

5 لاکھ روپے انسپکٹر چارجز ادا کرنے ہوتے ہیں۔حکام کے مطابق دیگر تمام فیسیں وصول کی گئیں مگر سی آئی ایف گزشتہ دو برسوں میں کسی ادارے سے وصول نہیں ہوئی۔

پی ایم ڈی سی حکام کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنی بلکہ یہ سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ 3 مختلف رجسٹرارز کے دور میں یہ فیس کیوں وصول نہیں کی گئی۔عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو اس سنگین غفلت کا فوری نوٹس لینا چاہیے اور نہ صرف یہ رقم وصول کی جائے بلکہ ذمہ داروں کو بھی کٹہرے میں لایا جائے۔پی ایم ڈی سی کے ایک اور سینئر اہلکار نے بتایا کہ یہ معاملہ نظرانداز ہوگیا تھا لیکن جلد ہی اسے حل کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ ایک روپیہ بھی کسی یونیورسٹی کے پاس نہیں رہے گا اور پوری رقم کونسل کے اکانٹ میں جمع کرائی جائے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکا اور اسرائیل، ٹرمپ کے غزہ جنگ ختم کرنے کے منصوبے پر معاہدے کے قریب امریکا اور اسرائیل، ٹرمپ کے غزہ جنگ ختم کرنے کے منصوبے پر معاہدے کے قریب جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام، یورپی یونین نے ایران پر دوبارہ پابندیاں لگادیں میرا پانی میرا پیسا، کسی کو کیا تکلیف ہے: مریم نواز ایف بی آر کا ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع نہ کرنے کا اعلان پاکستان میں غیر قانونی سگریٹ انڈسٹری کا بڑا اسکینڈل بے نقاب آزاد کشمیر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور مظاہرے، سب کچھ بند: مطالبات کیا ہیں؟ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پی ایم ڈی سی کروڑ روپے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف