وزیراعظم شہباز شریف کاغزہ میں جنگ بندی کیلئےصدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
وزیراعظم محمد شہباز شریف نےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے جانے والے 20 نکاتی منصوبے کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے۔ یہ بیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سیشن کے دوران امریکی صدر کی جانب سے پیش کردہ اس منصوبے کی روشنی میں سامنے آیا ہے، جسے خطے میں امن کی بحالی کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا مقصد غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کو یقینی بنانا ہے، جو نہ صرف فوری جنگ بندی بلکہ مستقل امن کی بنیاد رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ خطے میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان اس کی مکمل حمایت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ یہ کوشش فلسطینی عوام کی تکلیفوں کا خاتمہ لائے گی۔
وزیراعظم نے صدر ٹرمپ کی قیادت کی داد دیتے ہوئے کہا کہ “امید ہے کہ صدر ٹرمپ اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔انہوں نے منصوبے کی کامیابی کو مشرق وسطیٰ کی مجموعی سلامتی اور ترقی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ “اس کی کامیابی سے نہ صرف غزہ بلکہ پورے خطے کو فائدہ ہوگا۔
وزیراعظم نے خاص طور پر صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیف وٹکوف کی تعیناتی کو سراہا۔انہوں نے کہا کہ خصوصی ایلچی کے کردار کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان کی کاوشیں غزہ میں انسانی المیے کو روکنے میں کلیدی ثابت ہوں گی۔
وزیراعظم نے فلسطین اسرائیل تنازعے کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں دیرپا امن یقینی بنانے کے لیے دو ریاستی حل پر عملدرآمد ناگزیر ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے فلسطینی حقوق کی حمایت کرتا رہا ہے اور اس اصول پر قائم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہوئے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔