نیتن یاہو کی حماس کو معافی اور محفوظ راستہ دینے کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
تل ابیب: اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اگر حماس باقی یرغمالیوں کو رہا کر دے اور غزہ چھوڑنے پر آمادہ ہو تو اس کے رہنماؤں کو معافی اور محفوظ راستہ دیا جا سکتا ہے۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کے مطابق نیتن یاہو اس سے قبل حماس کے مکمل خاتمے کو ہی جنگ بندی کا واحد حل قرار دے چکے تھے، تاہم اب انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کی تفصیلات کی تصدیق کر دی ہے۔
نیتن یاہو نے فاکس نیوز کو بتایا کہ "اگر حماس جنگ ختم کرے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کر دے تو ہم انہیں جانے دیں گے"۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے جس پر مذاکرات جاری ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا مجوزہ معاہدہ اس بات پر مبنی ہے کہ اسرائیل کی جانب سے عوامی اعلان کے 48 گھنٹے کے اندر تمام یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے حماس کے رہنماؤں کو محفوظ راستہ دیا جائے گا۔ منصوبے کے مطابق اسرائیل کئی سو فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا اور فلسطینی شہداء کی لاشیں بھی واپس کرے گا۔
امریکی صدر ٹرمپ پیر کو وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے تاکہ تقریباً دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن منصوبے کو حتمی شکل دی جا سکے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر عندیہ دیا کہ "کچھ بڑا ہونے جا رہا ہے، پہلی بار ہم یہ معاہدہ مکمل کریں گے"۔
غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اب تک 65 ہزار 549 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نیتن یاہو
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔