وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ امریکی دورے اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر خاصی پذیرائی ملی ہے۔ ان کے لہجے، حکمتِ عملی اور نئی ابھرتی ہوئی قیادت کے انداز نے کئی ناقدین کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستانی قیادت کی تعریف اور ملاقاتوں نے سیاسی و سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا پاکستان عالمی سطح پر ایک نئے مقام کی جانب بڑھ رہا ہے؟ اور کیا اس سب کا فائدہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کو طویل المدتی اقتدار کی صورت میں مل سکتا ہے؟

سیاسی تجزیہ کار احمد ولید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ خاصی کامیاب پیشرفت ہے۔ جیسا کہ متوقع تھا، اس دوران صدر ٹرمپ کی وزیراعظم اور آرمی چیف سے ملاقات بھی ہوئی، جس نے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کیا۔

مزید پڑھیں: واشنگٹن پوسٹ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ کو پاک امریکا تعلقات میں نئی جہت قرار دیدیا

ان کے مطابق بھارت کے لیے یہ صورتحال باعثِ تشویش ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات بہتری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بھارت کو اپنے جارحانہ عزائم پر نظرِ ثانی کرنا پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ جب امریکا پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اسے اہمیت دے رہا ہے تو پاکستان کی خطے میں پوزیشن مزید مستحکم ہوگی اور عالمی سطح پر بھی اس کا تشخص بہتر ہوگا۔ وزیراعظم کے خطاب میں افغانستان کے ذریعے جاری بھارتی دہشتگردی کو بے نقاب کرنا بھی بھارت کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔

احمد ولید کے مطابق اگر امریکی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری شروع کرتی ہیں تو دیگر ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے، جس سے ملکی معیشت کو سہارا ملے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کو انہوں نے ایک مثبت اشارہ قرار دیا، البتہ یاد دلایا کہ اسی طرح کی ملاقات ماضی میں عمران خان سے بھی ہوچکی ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی واشنگٹن میں امریکی ہم منصب سے ملاقات، تجارتی تعلقات کے فروغ پر اتفاق

سیاسی ماہر ماجد نظامی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی سب سے بڑی خوبی ان کی گفتگو کا انداز ہے، جو انہیں عالمی سطح پر نمایاں کرتا ہے۔ تاہم ان کے مطابق، اس دورے کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب ایم او یوز کاغذ سے نکل کر عملی شکل اختیار کریں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کو مستقل پالیسی سمجھنا درست نہیں، کیونکہ وہ کبھی آسمان پر بٹھاتے ہیں اور کبھی زمین پر گرا دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بیرونی کامیابیاں اپنی جگہ، مگر اندرونی سطح پر مسلم لیگ (ن) کو میرٹ، گورننس اور عوامی مسائل پر توجہ دینا ہوگی، کیونکہ پاکستان کی سیاست میں صرف عالمی پذیرائی زیادہ دیر سہارا نہیں دیتی۔

مزید پڑھیں: پاک امریکا تاریخی تجارتی معاہدہ طے پانے پر وزیراعظم شہباز شریف کا صدر ٹرمپ کا شکریہ

سیاسی تجزیہ کار رانا عثمان کے مطابق، پاکستان اس وقت اسلامی ممالک میں مرکزِ نگاہ تو ہے ہی، لیکن اس دورے کی خاص بات یہ ہے کہ امریکا نے کھل کر پاکستان کی تعریف کی۔

ان کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا بڑھتا ہوا کردار ہے، جس کے لیے امریکا کو بھی پاکستان کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے تجارتی اور ٹیرف کے معاملات میں جس لچکدار رویے کا مظاہرہ کیا، اس سے عالمی برادری متاثر ہوئی ہے۔

رانا عثمان نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ امریکا کا جھکاؤ پاکستان کی جانب بڑھ رہا ہے اور یہ رجحان مستقبل میں پاکستان کو مزید فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف فیلڈ مارشل عاصم منیر واشنگٹن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا پاکستان ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف فیلڈ مارشل عاصم منیر واشنگٹن وزیراعظم شہباز شریف ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کی کی تعریف ٹرمپ کی رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار