مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے سینیئر نائب صدر مشتاق منہاس نے کہا ہے کہ وزیراعظم  شہباز شریف وطن واپسی کے بعد براہِ راست جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران سے مذاکرات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کو بھارت فنڈنگ کررہا ہے، وزیراعظم آزاد کشمیر کا الزام

میڈیا سے گفتگو میں مشتاق منہاس نے بتایا کہ وزیراعظم سے ان کی تفصیلی ملاقات ہوئی ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات پر بات چیت پہلے بھی ہو چکی ہے اور ان میں سے زیادہ تر تسلیم کیے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا تاثر درست نہیں کہ مذاکرات نہیں ہو رہے، ایکشن کمیٹی کو مسلسل انگیج کیا گیا ہے اور وہ خود بھی اس عمل کا حصہ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2024 میں بھی حکومت آزاد کشمیر اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدہ ہوا تھا، مگر اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا جس کے بعد کمیٹی نے اپنے 38 نکاتی مطالبات دوبارہ پیش کیے۔

یہ بھی پڑھیں: عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

یاد رہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے کل آزاد کشمیر میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس سے قبل وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزرا نے مظفرآباد جا کر مذاکرات کیے اور 38 میں سے 36 نکات مان لیے، تاہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث احتجاج موخر نہ ہو سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آزاد کشمیر شہباز شریف عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات مشتاق منہاس ہڑتال.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شہباز شریف عوامی ایکشن کمیٹی مذاکرات مشتاق منہاس ہڑتال عوامی ایکشن کمیٹی کے مشتاق منہاس

پڑھیں:

کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی

 نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں

لاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال

اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔

متعلقہ مضامین

  • فیصل ممتاز راٹھور سے چوہدری یاسین کی ملاقات
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ