سکھر،سڑکوں پر آوارہ مویشیوں کا قبضہ متعلقہ ادارے روکنے مین ناکام
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250930-11-15
سکھر(نمائندہ جسارت )سکھر شہر کی سڑکوں پرآوارہ مویشیوں کا قبضہ،بلدیہ سمیت دیگر متعلقہ ادارے آوارہ مویشیوں کو سڑک پر مٹر گشت سے روکنے میں ناکام ، سکھر شہر کی مصروف ترین شاہراہوں پر آوارہ مویشیوں کی بھرمار دکھائی دیتی ہے سندھ کے تیسرے بڑے شہر سکھر کے مختلف علاقوں اور اہم شاہراہوں پر آوارہ مویشیوں نے سڑکوں پر قبضہ کرلیا ہے اور آوارہ مویشی سڑکوں پر مٹر گشت کرتے نظر آتے ہیں۔ آوارہ مویشی سڑکوں پر گوبر کرتے اور سڑکوں کو گندا کرتے ہیں۔ اس صورتحال پر شہری و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ آوارہ مویشیوں کا سڑک پر گشت کرنا اور غلاظت پھینکنے کی شکایات میونسپل کارپوریشن کو کر چکے ہیں لیکن میونسپل کارپوریشن کا عملہ مویشیوں کی سڑکوں پر آوارگی ختم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے آوارہ مویشی مسلسل سڑکوں پر چلتے پھرتے اور خصوصاً سرکاری طور پر کروڑوں روپے مالیت کی لگی ہوئی گرین بیلٹ کو کھاتے اور وہاں بیٹھ کر آرام کرتے ہیں جبکہ مویشیوں کا پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ حادثہ ہونا بھی معمول کا حصہ بن چکا ہے اور متعدد جانور بھی زخمی جبکہ گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا چکا ہے۔ شہری و سماجی حلقوں نے بالا حکام و دیگر متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں سخت ایکشن لینے کی اپیل کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا وارہ مویشیوں مویشیوں کا سڑکوں پر
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ