117 برس تک زندہ رہنے والی ہسپانوی خاتون کی طویل عمر کے راز پر سائنس کی حیران کن تحقیق
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کی سب سے طویل العمر خاتون کی زندگی پر کی جانے والی سائنسی تحقیق نے ماہرین کو حیران کردیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسپین سے تعلق رکھنے والی ماریا برانیئس 117 برس کی عمر تک زندہ رہیں اور اپنی وفات (2024) سے قبل وہ کئی لحاظ سے جدید سائنس کے لیے ایک حیرت انگیز نمونہ ثابت ہوئیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ماریا برانیئس کے معدے کی صحت کم و بیش بچوں جیسی تھی، جس کی بدولت ان کے جسم میں سوزش کے آثار نہ ہونے کے برابر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بڑھاپے کے باوجود ان کی قوتِ مدافعت بیماریوں کے خلاف بھرپور ڈھال بنی رہی۔
عالمی میڈیا کے مطابق ماریا اپنی موت سے پہلے خون، تھوک، پیشاب اور فضلے کے نمونے سائنس دانوں کو فراہم کرچکی تھیں، جن کے تجزیے میں انکشاف ہوا کہ اگرچہ ان کے خلیے اپنی فطری عمر پوری کرچکے تھے، لیکن ان کے جین جوان افراد کی طرح صحت مند دکھائی دیے۔
تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ان کے آنتوں میں موجود مفید بیکٹیریا نے جسم کو مختلف امراض سے محفوظ رکھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ماریا کے جینز میں وہ تبدیلیاں موجود تھیں جو عام طور پر دل کے عارضے، ذیابیطس اور اعصابی کمزوری کا باعث بنتی ہیں، تاہم ان کے باوجود وہ الزائمر یا پارکنسن جیسی خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہیں۔
ان کی طویل عمر کا راز صرف جینیاتی عوامل تک محدود نہیں تھا بلکہ ان کی روزمرہ زندگی اور عادات نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ روزانہ تین مرتبہ دہی یا دہی جیسی غذائیں کھاتی تھیں، ساتھ ہی ان کی خوراک میں مچھلی اور زیتون کا تیل بھی شامل رہتا تھا، جو ان کے وزن اور صحت کے توازن کا بنیادی سبب بنا۔
ماریا ہمیشہ جسمانی طور پر متحرک رہیں، جبکہ ان کی ذہنی صحت بھی مثالی تھی۔ بڑھاپے کے باوجود وہ اپنی دلچسپیوں سے وابستہ رہیں—انہیں مطالعہ کرنا، پیانو بجانا اور باغبانی نہایت پسند تھا۔ یہی سرگرمیاں ان کے دماغ کو فعال رکھتی رہیں۔ سب سے اہم بات یہ کہ انہوں نے کبھی سگریٹ یا شراب کا استعمال نہیں کیا، جو ان کی زندگی کو مزید صحت مند بنانے میں مددگار ثابت ہوا۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ماریا برانیئس کی کہانی اس حقیقت کی عملی تصویر ہے کہ متوازن غذا، مثبت طرزِ زندگی اور ذہنی سکون نہ صرف بیماریوں سے محفوظ رکھتے ہیں بلکہ انسان کو عمرِ طویل اور بہتر معیارِ زندگی بھی فراہم کرسکتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔