عمران خان کوویڈیو لنک ٹرائل کیخلاف ریلیف نہیں مل سکا
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
حکم امتناع کی درخواست مسترد،چیف سیکرٹری پنجاب کو نوٹس ، 6 اکتوبر تک جواب طلب
ویڈیو لنک ایک بندے کو ٹارگٹ کرنے کے لیے کیا گیا، وکیل سلمان اکرم راجا کے دلائل
جی ایچ کیو حملہ کیس میں ویڈیو لنک ٹرائل کے خلاف درخواست پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ سے بڑا ریلیف نہ مل سکا، حکم امتناع درخواست مسترد کردی گئی۔ پیر کو جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس وحید خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کیس کی سماعت کی۔عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت کے خلاف حکم امتناع درخواست مسترد کر دی جبکہ پٹیشن سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب کو نوٹس جاری کر دیا۔وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ویڈیو لنک ایک بندے کو ٹارگٹ کرنے کے لیے کیا گیا، جس پر عدالت نے کہا کہ جواب آنے دیں پھر دیکھتے ہیں۔ہائی کورٹ بینچ نے چیف سیکرٹری سے 6 اکتوبر کو جواب طلب کر لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ جبکہ بھارت کا امن کا درس دینا حقائق کے منافی اور مضحکہ خیز ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بھارتی مؤقف کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، لیکن آج وہ انہی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے انکار سے کشمیر کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہو سکتی۔
پاکستانی قونصلر نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، کیونکہ خطے میں کشیدگی بڑھانے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے متعدد اقدامات خود بھارت سے منسوب ہیں۔
صائمہ سلیم نےسندھ طاس معاہدے کی معطلی سے متعلق بھارتی فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی لاکھوں لوگوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے، اسے کسی صورت جنگ یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی سرگرمیاں عالمی سطح تک پھیل چکی ہیں، جبکہ بھارت میں ہندوتوا نظریات کے فروغ نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کی شکل دے دی ہے، جس کے باعث مذہبی اقلیتوں کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا پائیدار حل صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کا احترام ناگزیر ہے۔