شیری رحمان کی اتحادیوں پر کڑی تنقید، سیلاب زدگان اور بی آئی ایس پی پر مؤقف واضح
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے پارلیمان کے اندر اور باہر اتحادی جماعتوں کے رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ ہر مسئلے پر ایوان کے اندر اور باہر آواز بلند کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی احتجاج جاری رکھے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی پنجاب سے ایسا رویہ اختیارنہیں کیا جس پرانگلی اٹھائی جا سکے، پیپلزپارٹی نے ہمیشہ اتحادیوں سے بات چیت میں تمیزاورشائستگی کومقدم رکھا ہے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ صوبوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مسائل ایک دوسرے کے ساتھ بانٹیں تاکہ قومی سطح پر پالیسی سازی بہترہوسکے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ حالیہ تباہ کن سیلاب سے متاثرہ عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں اوران کی تکالیف کم کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہیں۔
ان کے مطابق اگرسیلاب زدگان کو بروقت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے امداد فراہم کی جاتی تو ان کے مسائل کافی حد تک کم ہو جاتے۔
شیری رحمان نے بی آئی ایس پی کو دنیا کا بہترین سماجی تحفظ پروگرام قراردیا اورکہا کہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے ہی عوام تک شفاف اور فوری ریلیف پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے اتحادی جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں کے درمیان ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ جو دل میں آئے کہہ دیا جائے اگر رویہ یہی رہا تو پیپلز پارٹی کے لیے حکومت کا ساتھ دینا مشکل ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل جلسوں یا ٹی وی پرالفاظ کی جنگ سے حل نہیں ہوتے بلکہ باہمی احترام اور مکالمے کے ذریعے ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔