سندھ حکومت چاہتی ہے کہ گندم کی مارکیٹ میں موجودگی کو یقینی بنایا جائے; وزیر اعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
ویب ڈیسک : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ گندم کی مارکیٹ میں موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔
گندم سے متعلق ریلیز پالیسی پر اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ مارکیٹ میں گندم ہوگی تو آٹا یا روٹی کی قیمت مستحکم رہے گی۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں اس وقت 12 لاکھ ٹن گندم موجود ہے، ساڑھے 4 ماہ کے لئے یہ گندم کافی ہے۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ اسی دوران نئی فصل آ جائے گی، 25 ایکڑ والے کاشتکاروں کو ڈی اے پی اور یوریا دینے جا رہے ہیں۔
’’اپنے ہتھیار ہمارے حوالے کر دو‘‘
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔