ایف آئی اے کی کارروائی، حوالہ ہندی اور غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزمان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
کراچی:
وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) کارپوریٹ کرائم سرکل اور کمرشل بینکنگ سرکل نے مختلف کارروائیوں کے دوران حوالہ ہنڈی اور غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے کی ہدایت پر حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ملزمان کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ کارپوریٹ کرائم سرکل اور کمرشل بینکنگ سرکل کراچی نےکارروائیوں کےدوران حوالہ ہنڈی اور غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا، گرفتار ملزمان میں امتیاز احمد شیخ اور محمد صدیق شامل ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ ملزمان کو کراچی کےعلاقے شہید ملت اور کراچی ائیرپورٹ کی پارکنگ سےگرفتار کیا گیا، گرفتار ملزمان حوالہ ہنڈی اور غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کے قبضے سے 50 ہزار یو اے ای درہم، 27 ہزار 270 سعودی ریال اور 800 امریکی ڈالر اور 4 لاکھ 66 ہزار روپے برآمد ہوئے ہیں۔
ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمان حوالہ ہنڈی اور غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث ہیں، گرفتار ملزمان سے موبائل فونز، غیرقانونی کرنسی ایکسچینج اور حوالہ ہنڈی سے متعلق شواہد بھی برآمد کرلیےگئے ہیں۔
ترجمان ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ ملزمان برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو مطمئن نہ کرسکے، گرفتار ملزمان کے خلاف تفتیش شروع کردی گئی اور ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: حوالہ ہنڈی اور غیرقانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث گرفتار ملزمان ایف آئی اے ملزمان کے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔