اقوام متحدہ کا تمام فریقین سے ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی، بلارکاوٹ انسانی امداد کی رسائی، تمام اسرائیلی قیدیوں کی غیر مشروط رہائی ہونی چاہیئے۔ انتونیو گوتریس نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات دو ریاستی حل کیلئے سازگار حالات پیدا کرینگے۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انتونیو گوتریس نے امن کے لیے عرب اور مسلم ممالک کے اہم کردار کو بھی سراہا، انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تمام فریقین معاہدے پر عمل درآمد کریں اور اس کے نفاذ کو یقینی بنائیں، معاہدے اور اس کے نفاذ کے لیے تمام فریقوں کا پُرعزم ہونا اہم ہے۔ سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ تنازع سے پیدا ہونے والی شدید انسانی تکالیف کو کم کرنا اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی، بلارکاوٹ انسانی امداد کی رسائی، تمام اسرائیلی قیدیوں کی غیر مشروط رہائی ہونی چاہیئے۔ انتونیو گوتریس نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات دو ریاستی حل کے لیے سازگار حالات پیدا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ دوسری جانب برطانیہ، اٹلی، روس، فرانسیسی صدر اور فلسطینی اتھارٹی نے بھی امریکی امن منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز امریکی صدر نے غزہ امن معاہدے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس پر تمام مسلم اور عرب ملکوں نے اتفاق کیا ہے۔ امریکی صدر کی غزہ جنگ بندی کے لیے مجوزہ 20 نکات میں فوری جنگ بندی، موجودہ جنگی محاذوں کو منجمد کرنا، 48 گھنٹوں کے اندر تمام 20 زندہ قیدیوں کی رہائی اور 24 مردہ قیدیوں کی باقیات کی واپسی شامل ہیں۔ مجوزہ معاہدے کے تحت تمام مغویوں کی رہائی کے بعد اسرائیل 250 عمر قید کے فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ساتھ 7 اکتوبر 2023ء کے بعد گرفتار کیے گئے 1700 غزہ کے شہریوں کو بھی رہا کرے گا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مجوزہ معاہدے میں حماس کے تمام جارحانہ ہتھیار تباہ کرنا، ہتھیار ڈالنے والے حماس جنگجوؤں کو عام معافی دینے، جو غزہ سے جانا چاہیں، ان حماس ارکان کو محفوظ راستہ فراہم کیا جانا بھی شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ قیدیوں کی کے لیے
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔