پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ٹرانسپورٹ رہنماء و پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان کا ردعمل آ گیا۔اپنے بیان میں ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 4 پیسے اور پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 7 پیسے اضافے کو مسترد کرتے ہیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نا قابلِ قبول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس اضافے کے ردعمل میں کرایوں میں 3 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہیں، حکومت مکمل کنفیوژن کا شکار ہے، اور فیصلے بغیر کسی واضح پالیسی کے کئے جا رہے ہیں، ٹول ٹیکس اور دیگر ٹیکس کی مد میں پہلے ہی ٹرانسپورٹرز کی چمڑی اتاری جا رہی ہے، آئے دن ڈیزل پٹرول کی قیمت میں اضافہ ٹرانسپورٹرز میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے۔صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے کہا کہ ٹرانسپورٹرز مزید اس طرح کے نقصانات کے مزید متحمل نہیں ہوسکتے، حکومت فیصلہ کر لے کہ ٹرانسپورٹرز کو جینے دینا ہے یا نہیں، حکومت نے ملک کی تمام انڈسٹریز تباہی کر دی، کاروباری طبقہ اپنا سرمایہ لے کر ملک چھوڑ کر جا رہا ہے۔ملک شہزاد اعوان کا کہنا تھا کہ کرائے بڑھا دینا مسئلہ کا حل نہیں، مہنگائی کا بوجھ آخر میں عوام کے کاندھوں پر آتا ہے، ٹرانسپورٹر یونینز بہت جلد ایک اہم اور بڑا فیصلہ کرنے جا رہی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فی الفور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں میں اضافہ
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔