حکومت ابراہیم اکارڈ کی جانب جانے کا سوچے بھی مت، یہ ہماری قوم کی ریڈ لائن ہے، حافظ نعیم الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 اکتوبر2025ء ) جماعت اسلامی کے امیرحافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا ہے کہ حکومت ابراہیم اکارڈ کی جانب جانے کا سوچے گا بھی مت کیوں کہ یہ ہماری قوم کی ریڈ لائن ہے، ابراہیم اکارڈ کی جانب پیش قدمی ہماری ریڈلائن ہے اگر اسے کراس کیا گیا تو خمیازہ بھگتنا پڑے گا، اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشش بھی کی گئی تو قوم کے غیض وغضب کا سامنا کرنا ہوگا۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو ایک طرف کرکے جو معاہدہ کیا جائے گا وہ ناپائیدارہوگا کیوں کہ فلسطینی ہی اس معاملے کے اصل فریق ہیں جنہیں شامل کیے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا، جماعت اسلامی کی قیادت حماس کے ردعمل کا انتظار کررہی ہے، وہ جو فیصلہ کریں گے ہم اس کے ساتھ ہوں گے اور پوری دنیا میں ظالموں کو بے نقاب کریں گے، 4 اکتوبر کو لاہور، 5 کو کراچی اور 7 اکتوبر کو اسلام آباد میں عظیم الشان ملین مارچ منعقد کیے جائیں گے۔(جاری ہے)
حافظ نعیم الرحمان کہتے ہیں کہ پاکستان میں ہمیشہ حکمران امریکی غلام تو رہے ہیں لیکن عجب معاملہ ہے کہ اپوزیشن بھی اسرائیل کی مذمت نہیں کررہی، کروڑوں ووٹ لینے والی اپوزیشن اسرائیل کی دہشتگردی کی مذمت اس لیے نہیں کر رہی کہ انہیں ٹرمپ سے اقتدار میں واپس آنے کی امید ہے، قوم سے اپیل ہے کہ وہ مظلوم فلسطینوں کی حمایت میں ہونے والے جماعت اسلامی کے ملین مارچ میں شرکت کرکے حکومت اور اپوزیشن کو بتادیں کہ ہمیں امریکی غلامی منظور نہیں۔ علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکاتی منصوبہ پر شہبازشریف کی تائید کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہو ئے کہا کہ ہم وزیراعظم کے بیان کو کسی صورت قبول نہیں کرتے، پاکستانی قوم کی مرضی کے بغیر کوئی بھی شخصیت کیسے ڈونلڈ ٹرمپ کو رضا مندی دے سکتی ہے؟ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کسی بھی قوم کو یہ حق ہے کہ اگر اس کی سرزمین پر قبضہ ہو تو وہ اس کے خلاف مسلح جدوجہد کرسکتی ہے۔ کوئی بھی طاقت زور زبردستی سے ایک قوم کا یہ حق نہیں چھین سکتی، امن معاہدے کے نام پر ایسی کوئی بھی دستاویز جو 66 ہزار فلسطینیوں کی لاشوں پر دی جارہی ہے اس کی تحسین کرنا ظالموں کے ساتھ کھڑے ہونے کے برابر ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جماعت اسلامی
پڑھیں:
حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔
پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔
مزید :