جامعہ داؤد : داخلے منسوخ کرنے پر طلبہ سراپا احتجاج‘ 48گھنٹے کا الٹی میٹم
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251001-01-17
کراچی (اسٹاف رپورٹر) جامعہ داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ نے جبری طور پر طلبہ کے داخلے منسوخ کرنے اور انتظامیہ کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف بھرپور احتجاج کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات 48 گھنٹے میں تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ شہر بھر میں پھیلا دیا جائے گا۔ مظاہرین نے جامعہ انتظامیہ پر اسلحے کے زور پر طلبہ کو ہراساں کرنے کا الزام لگایا، الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمعیت ایک منظم اور پْرامن طلبہ تنظیم ہے جسے اوچھے ہتھکنڈوں سے نہیں دبایا جا سکتا۔ شہری انتظامیہ نے جامعہ انتظامیہ سے مذاکرات کی یقین دہانی کراتے ہوئے اسلامی جمعیت طلبہ سے 48 گھنٹوں کی مہلت طلب کی ہے۔تفصیلات کے مطابق، اسلامی جمعیت طلبہ کراچی کے ناظم آبش صدیقی نے کہا کہ داخلے منسوخ کرنے کا فیصلہ تعلیم دشمن اور غیر قانونی اقدام ہے، جو طلبہ کے بنیادی حق تعلیم کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت اس فیصلے کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائے گی اور طلبہ حقوق کی اس تحریک کو ملک گیر تحریک میں بدلا جائے گا۔ آبش صدیقی نے حکومت سندھ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس غیر آئینی فیصلے کا فوری نوٹس لیں۔احتجاج کے دوران جامعہ داؤد کے مرکزی دروازے پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی جبکہ شہر کی اہم شاہراہوں پر بھی طلبہ نے دھرنے دیے، جن میں شاہراہ پاکستان، شاہین کمپلیکس، یونیورسٹی روڈ اور نیو ایم اے جناح روڈ شامل ہیں۔ مظاہرین نے طلبہ یونین انتخابات کے شیڈول کے اجراء ، فیسوں میں غیر اعلانیہ اضافے کے خاتمے اور کالجز کی خودمختاری کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا۔احتجاج کے دوران جامعہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ثمرین حسین طلبہ سے بات کرنے پہنچیں تاہم انتظامی بدظمی کے باعث انہیں پولیس اور عملے کی مدد سے واپس منتقل کیا گیا۔ ترجمان جامعہ نے دعویٰ کیا کہ احتجاج کی وجہ سے نئے داخلہ لینے والے طلبہ و طالبات سخت مشکلات کا شکار ہوئے۔ دوسری جانب جمعیت کے ترجمان نے جامعہ انتظامیہ کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی نے خود اسلحے کے زور پر طلبہ کو ہراساں کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی کارکن کو نقصان پہنچا تو شہر کے امن و امان کی ذمہ داری جامعہ انتظامیہ اور حکومت پر عائد ہوگی۔بعدازاں، شہری انتظامیہ کے نمائندوں نے مظاہرین سے مذاکرات کیے اور یقین دہانی کرائی کہ جامعہ داؤد انتظامیہ سے براہِ راست بات چیت کروائی جائے گی۔ معتمد اسلامی جمعیت طلبہ کراچی نے کارکنان سے خطاب میں کہا کہ اگر 48 گھنٹے میں مطالبات نہ مانے گئے تو شہر کے مختلف مقامات پر بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوں گے اور یہ طلبہ حقوق کی تحریک ملک گیر تحریک میں بدل جائے گی۔
داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کے طلبہ اسلامی جمعیت کے تحت داخلے منسوخی اور طلبہ مسائل کے حل کیلیے جامعہ کے سامنے احتجاج کررہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ جامعہ انتظامیہ جامعہ داو د
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔