امریکا: فلسطین کے حامی اساتذہ و طلبہ کو گرفتار اور ملک بدر کرنا خلاف آئین قرار
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
امریکی وفاقی جج نے قرار دیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فلسطین کی حمایت میں سرگرم غیر ملکی طلبہ اور اساتذہ کے ویزے منسوخ کرنے، انہیں گرفتار کرنے، حراست میں لینے اور ملک بدر کرنے کی پالیسی اپنا کر امریکی آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔
بوسٹن میں واقع یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج نے فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ پالیسی آزادی اظہار کے بنیادی حق کو متاثر کرتی ہے، جو کہ آئین کی پہلی ترمیم کے تحت تحفظ یافتہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی جج نے فلسطینی نژاد محمود خلیل کی ملک بدری کا حکم دے دیا
یہ مقدمہ امریکا کی مختلف یونیورسٹیوں کی فیکلٹی کی نمائندگی کرنے والی تنظیموں، بشمول امریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز اور اس کے ہارورڈ، روٹگرز اور نیویارک یونیورسٹی چیپٹرز کے ساتھ ساتھ مڈل ایسٹ اسٹڈیز ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔
جج نے مقدمے کی ابتدائی سماعت کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے باقاعدہ طور پر ایسی پالیسی اپنائی جو آزادی اظہار کے حق کو متاثر کرتی ہے۔ البتہ عدالت نے اس مرحلے پر صرف پالیسی کو غیر قانونی قرار دیا ہے، جب کہ حتمی ریلیف یا سزا کا تعین مقدمے کے آئندہ مراحل میں کیا جائےگا۔
پہلا ہدف فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیلیہ مقدمہ اس وقت دائر کیا گیا جب مارچ میں امیگریشن حکام نے فلسطینی نژاد طالبعلم محمود خلیل کو حراست میں لیا، جو کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اس منصوبے کا پہلا ہدف بنے، جس کے تحت فلسطینی حامی یا اسرائیل مخالف خیالات رکھنے والے غیر ملکی طلبہ کو ملک بدر کیا جا رہا تھا۔
اس کے بعد سے انتظامیہ نے سینکڑوں طلبہ اور اسکالرز کے ویزے منسوخ کیے اور متعدد کو گرفتار بھی کیا، جن میں ٹفٹس یونیورسٹی کی طالبہ رمیسہ اوزترک بھی شامل ہیں، جنہیں ماسک پہنے سادہ لباس اہلکاروں نے اس وقت حراست میں لیا جب انہوں نے غزہ جنگ سے متعلق یونیورسٹی کی پالیسی پر تنقیدی مضمون شائع کیا۔
ججوں نے طلبہ کی رہائی کا حکم دیامتعدد مقدمات میں عدالتوں نے ان طلبہ کی رہائی کا حکم دیا، جنہیں حکومت نے ان کے سیاسی خیالات اور فلسطین کی حمایت پر نشانہ بنایا۔
ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈرز اور پس منظرفیکلٹی گروپس نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ کی جانب سے جنوری 2024 میں جاری کردہ ایگزیکٹو آرڈرز کے بعد محکمہ خارجہ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی نے فلسطینی حامی افراد کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ ان احکامات میں غیر ملکی افراد سے نفرت انگیز نظریات کے خلاف سخت رویہ اپنانے اور یہود مخالف جذبات کے خلاف کارروائی کا حکم دیا گیا تھا۔
یہ آرڈرز اس وقت جاری کیے گئے جب 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد غزہ میں اسرائیلی جنگ کے خلاف امریکا بھر کی جامعات میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی نژاد امریکی شہری کا قتل: امریکا کا اسرائیل سے فوری تحقیقات کا مطالبہ
ٹرمپ انتظامیہ کا دفاعمحکمہ انصاف کے وکلا نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ کوئی ایسی پالیسی موجود نہیں جس کے تحت نظریاتی بنیادوں پر ملک بدری کی جا رہی ہو، بلکہ انتظامیہ نے قومی سلامتی اور یہودی طلبہ کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے امیگریشن قوانین کے تحت قانونی اختیارات استعمال کیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر امریکی وفاقی جج ڈونلڈ ٹرمپ فلسطینی حامی طلبہ محمود خلیل وی نیوز ویزے منسوخ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر امریکی وفاقی جج ڈونلڈ ٹرمپ فلسطینی حامی طلبہ محمود خلیل وی نیوز ویزے منسوخ ٹرمپ انتظامیہ فلسطینی نژاد انتظامیہ نے محمود خلیل کہ ٹرمپ کے تحت کا حکم کے بعد
پڑھیں:
امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
امریکی سفارت خانے نے امریکا کی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کی تقریبات کے سلسلے میں جمعرات کو اسلام آباد میں ’لیٹ فریڈم رنگ‘ کے عنوان سے ’لبرٹی بیل‘ نمائش کا افتتاح کر دیا۔
نمائش میں ملک بھر سے تعلق رکھنے والے 16 پاکستانی فنکاروں کے تیار کردہ منفرد فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں ہر فنکار نے اپنے انداز میں ‘آزادی’ کے تصور کو اجاگر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبرپختونخوا سے امریکی ناظم الامور کی ملاقات، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق
نمائش کا افتتاح لوک ورثہ میوزیم میں منعقدہ تقریب میں امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس اور وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے مشترکہ طور پر کیا۔
پاکستانی فنکاروں نے ‘آزادی’ کی نئی تعبیر پیش کیامریکی سفارت خانے کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں امریکی مشن کے پبلک ڈپلومیسی سیکشن نے اپنے ‘لنکن کارنرز’ نیٹ ورک کے ذریعے ترتیب دیا، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے 16 فنکاروں کو شریک کیا گیا۔
Federal Minister for NH&C Aurangzeb Khan Khichi and U.S. Chargé d’Affaires Andy Halus on Thursday jointly inaugurated the “Let Freedom Ring” American Liberty Bell display at Lok Virsa Heritage Museum, celebrating the enduring cultural partnership between Pakistan & United States pic.twitter.com/3uqKCelXK9
— National Heritage and Culture Division (@DivisionCulture) July 23, 2026
ہر فنکار سے ایک ہی سوال پوچھا گیا کہ ’میرے لیے آزادی کیا معنی رکھتی ہے؟ ’اس سوال کے جواب میں فنکاروں نے ’لبرٹی بیل‘ کے منفرد ڈیزائن تخلیق کیے، جو پاکستانی نقطۂ نظر سے آزادی کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔
نمائش 5 روز تک جاری رہے گی‘لیٹ فریڈم رنگ’ نمائش 23 سے 27 جولائی تک اسلام آباد کے 2 نمایاں ثقافتی مراکز، لوک ورثہ میوزیم اور پاکستان مونومنٹ میوزیم میں جاری رہے گی۔
امریکی سفارت خانے نے شہریوں کو دعوت دی ہے کہ وہ اس 5 روزہ نمائش کے دوران دونوں مقامات کا دورہ کریں اور فن پاروں کا مشاہدہ کریں۔
امریکا اور پاکستان کے مشترکہ اقدار پر زورتقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس نے کہا کہ ‘لبرٹی بیل’ آزادی، اظہارِ رائے اور بہتر مستقبل کی امید کی علامت ہے۔
أعلنت السفارة الأمريكية في إسلام آباد عن افتتاح معرض ليت فريدوم رينغ في متحف لوك ورثه ومتحف النصب التذكاري الباكستاني، وذلك ضمن الاحتفالات العالمية بمرور ٢٥٠ عامًا على إعلان الاستقلال الأمريكي.
شارك في الافتتاح القائم بالأعمال الأمريكي آندي هيلز ووزير التراث الوطني والثقافة… pic.twitter.com/EcPOSXchyu
— WE News | بالعربية (@WENewsArabic) July 23, 2026
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں معاشروں میں فن، تخلیقی اظہار اور بہتر دنیا کے تصور کو اہمیت دی جاتی ہے۔
لوک ورثہ کئی دہائیوں سے پاکستان کی ثقافتی شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج اس تاریخی مقام پر امریکا کی آزادی کی داستان کو بھی پیش کرنا باعثِ فخر ہے۔
ثقافتی تبادلوں سے تعلقات مضبوط بنانے پر زوروفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کچھی نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تبادلے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے قائم مقام امریکی ناظم الامور کی ملاقات، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے اس نمائش کو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور باہمی تعاون کی ایک مثبت مثال قرار دیا۔
امریکا 2026 میں اپنے اعلانِ آزادی کی 250 ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ اسی مناسبت سے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانے اور سفارتی مشنز کے زیرِ اہتمام ‘فریڈم 250’ کے عنوان سے مختلف تقریبات، نمائشوں اور ثقافتی پروگراموں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی ‘لیٹ فریڈم رنگ’ مہم بھی اسی عالمی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد آزادی، اختراع، تخلیقی اظہار اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا ہے۔
اس نمائش کے ذریعے پاکستانی فنکاروں کو اپنے فن کے ذریعے آزادی کے تصور کو پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، جسے پاکستان اور امریکا کے درمیان ثقافتی تعاون کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزادی افتتاح لوک ورثہ میوزیم امریکا امریکی سفارتخانہ امریکی ناظم الامور اینڈی ہیلس پاکستان ثقافتی تبادلہ فنکاروں لبرٹی بیل لیٹ فریڈم رنگ مونومنٹ میوزم