کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ کا 2008ء میں آخری موقع گنوانے والے طلبہ کو ایک اور چانس
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ نے 2008ء میں آخری موقع ختم ہونے والے امیدواروں کو ایک بار پھر امتحان دینے کا موقع دے دیا۔
انٹرمیڈیٹ بورڈ کے مطابق سندھ بورڈز کمیٹی آف چیئرمین کی 5مارچ 2018ء کو ہونے والی میٹنگ میں 2008ء میں آخری موقع ختم ہونے والے انٹر کے امیدواروں کو امتحانات میں شرکت کیلئے مزید مواقع دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے ایس بی سی سی کے اس فیصلے کی روشنی میں سائنس پری میڈیکل، پری انجینئرنگ، سائنس جنرل، کامرس ریگولر، کامرس پرائیویٹ، آرٹس ریگولر، آرٹس پرائیویٹ، ہوم اکنامکس اور میڈیکل ٹیکنالوجی کے ایسے امیدواروں کو خصوصی فیس کے ساتھ ضمنی امتحانات برائے 2025ء میں شرکت کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے جن کے پاس 2008ء میں امتحانات دینے کا آخری موقع بھی ختم ہوچکا ہے۔
ایسے تمام امیدوار اپنے امتحانی فارم 6 ہزار روپے امتحانی فیس کے ساتھ بدھ یکم اکتوبر 2025ء سے 29 اکتوبر 2025ء تک انٹربورڈ کراچی کے آفیشل آن لائن ویب پورٹل کے ذریعے جمع کرواسکتے ہیں جبکہ مقررہ امتحانی فیس بھی اسی آن لائن پورٹل پر ادا کی جاسکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دینے کا
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔