اگست کی معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری، ترسیلات زر میں 7 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
اسلام آباد:
وزارت خزانہ نے ماہانہ معاشی آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی، ترسیلات زر جولائی تا اگست 2025ء میں 7 فیصد بڑھ کر 6.35 ارب ڈالرز رہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگست 2025ء میں ترسیلات زر 6.6 فیصد اضافے سے 3.13 ارب ڈالرز ریکارڈ ہوئیں، برآمدات جولائی تا اگست 2025ء میں 10.2 فیصد اضافے سے 5.29 ارب ڈالرز رہیں، اگست 2025ء میں برآمدات 2.
معاشی آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق درآمدات جولائی تا اگست 2025ء میں 8.8 فیصد بڑھ کر 10.4 ارب ڈالرز رہیں، اگست 2025ء میں درآمدات 5.8 فیصد اضافے سے 4.98 ارب ڈالرز ریکارڈ ہوئیں۔
وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جاری کھاتہ خسارہ جولائی تا اگست 2025ء میں 624 ملین ڈالرز رہا، گزشتہ سال 430 ملین تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگست 2025ء میں جاری کھاتہ خسارہ 245 ملین ڈالرز ریکارڈ ہوا، ایف ڈی آئی جولائی تا اگست 2025ء میں 22 فیصد بڑھ کر 364.3 ملین ڈالرز ہوگئی۔ اگست 2025ء میں ایف ڈی آئی 42.6 فیصد کمی سے 156.2 ملین ڈالرز رہی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جولائی تا اگست 2025ء میں ارب ڈالرز رہیں فیصد بڑھ کر ملین ڈالرز
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔