ملتان، ایم ڈبلیو ایم کے زیراہتمام شہدائے مقاومت کی یاد میں شمعیں روشن
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
رہنمائوں نے کہا کہ آج دنیا کے بعض ممالک اور بعض حکمران دو ریاستی حل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو کہ اسلام اور فلسطینیوں کے ساتھ غداری کا ارتکاب ہے، پاکستانی قوم اس حوالے سے اپنا موقف واضح رکھتی ہے دو ریاستی حل کا مطلب قائد اعظم کے نظریات سے انحراف کرنا ہے، حکمران کان کھول کر سُن لیں ہم کسی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین ملتان کے زیراہتمام شہدائے مقاومت کی پہلی برسی کے موقع پر شہدا کی یاد میں شمعیں روشن کی گئیں، اس موقع پر مرکزی صدر وحدت ایمپلائز ونگ سلیم عباس صدیقی، علامہ غلام مصطفی انصاری، ضلعی آرگنائزر ملتان عون رضا انجم ایڈوکیٹ، صوبائی صدر عزاداری ونگ انجینیئر سخاوت علی سیال، صوبائی رہنما سید جواد رضا جعفری، جواد حیدر جوئیہ، مولانا ہادی حسین قمی، ثقلین نقوی اور دیگر موجود تھے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے رہنماوں نے کہا کہ شہدا کی یاد منانا کسی نعمت سے کم نہیں ہے، ہم شہداء کے ساتھ تجدید عہد کرتے ہیں کہ ہم شہدا کے راستے پر چلیں گے اور ان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اج دنیا کے بعض ممالک اور بعض حکمران دو ریاستی حل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو کہ اسلام اور فلسطینیوں کے ساتھ غداری کا ارتکاب ہے، پاکستانی قوم اس حوالے سے اپنا موقف واضح رکھتی ہے دو ریاستی حل کا مطلب بانی پاکستان قائداعظم کے نظریات سے انحراف کرنا ہے، حکمران کان کھول کر سُن لیں ہم کسی صورت اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے، شہداء کا راستہ مقاومت کا راستہ ہے جس سے ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: دو ریاستی حل
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔