کراچی میں ایک گھنٹے کی بارش نے سب کچھ ڈبو کر رکھ دیا، انتظامیہ غائب
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
کراچی میں بارش کے باعث جہاں موسم خوشگوار ہو گیا ہے، وہیں طوفان کے باعث فلائٹ آپریشن متاثر ہوا ہے۔ جبکہ ایک گھنٹے کی بارش نے سب کچھ ڈبو کر رکھ دیا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔
طوفان بادوباراں کے باعث کراچی ایئرپورٹ پر متعدد پروازوں کو متبادل ایئرپورٹس کی جانب موڑنا پڑا، جبکہ کچھ پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں اور ایک منسوخ کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی سمیت سندھ کے مختلف علاقوں بارش کا امکان
ایئرپورٹ ذرائع کے مطابق ویتنام سے آنے والی ترکش ایئرلائن کی کارگو پرواز TK-6245 خراب موسم کے باعث کراچی میں لینڈ نہ کر سکی، جسے طویل انتظار کے بعد کسی متبادل ایئرپورٹ کی طرف بھیج دیا گیا۔
اسی طرح لاہور سے کراچی آنے والی قومی ایئرلائن کی مسافر پرواز PK-305 کو بھی کراچی میں لینڈ کرنے کی اجازت نہ مل سکی اور اسے بھی متبادل ایئرپورٹ پر منتقل کردیا گیا۔
تاہم بحرین سے آنے والی فلائٹ GF-754 نے کئی چکر لگانے کے بعد بالآخر کراچی ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈنگ کر لی۔
موسمی صورتحال کے باعث فلائٹ شیڈول بھی متاثر ہوا، جس کے تحت کراچی سے جدہ اور اسلام آباد روانہ ہونے والی پروازوں کو تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے علاوہ کراچی سے سکھر جانے والی قومی ایئرلائن کی پرواز PK-536 کو منسوخ کردیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ لاہور سے آنے والی پرواز PK-305 کو سکھر ایئرپورٹ پر عارضی طور پر اتارا گیا، جہاں مسافر طیارے میں موجود ہیں اور موسم کی بہتری کے بعد پرواز کو کراچی روانہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں موسلادھار بارش، مختلف علاقوں میں 129 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ
دوسری جانب ایئرپورٹ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب کراچی ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن معمول پر آ چکا ہے، پروازوں کی آمدورفت بحال ہو گئی ہے، اور لاہور سے نجی ایئرلائن کی ایک پرواز کامیابی سے کراچی لینڈ کر چکی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش شہر قائد فلائٹ آپریشن متاثر کراچی موسم خوشگوار وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فلائٹ ا پریشن متاثر کراچی موسم خوشگوار وی نیوز ایئرپورٹ پر ایئرلائن کی کراچی میں کے باعث نے والی کراچی ا
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔