صمود کاروان، صیہونی رجیم سے نفرت اور فلسطین کی حمایت کی علامت بن چکا ہے
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
مبصرین کے مطابق صمود بحری بیڑے، جس میں 50 سے زائد کشتیاں، کئی سو کارکن، وکلاء، اراکین پارلیمنٹ اور 44 سے زیادہ ممالک کے صحافی موجود ہیں، یہ ایسا قافلہ ہے کہ جو اس سے پہلے دنیا نے کبھی نہیں دیکھا۔ اسلام ٹائمز۔ جیسے جیسے صمود کاروان غزہ کے نزدیک پہنچ رہا ہے، اس یقین میں اضافہ ہو رہا ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت اور صیہونی حکومت کی مخالفت کی لہر کبھی ختم نہیں ہوگی، اس لیے صمود کاروان کی کامیابی حتمی ہے۔ مڈل ایسٹ آئی ویب سائٹ نے غزہ کی جانب صمود بحری کاروان کی نقل و حرکت کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ میزائل، گولیاں اور فوج کے ساتھ نہیں بلکہ خوراک، ادویات لیکر اس پختہ یقین کے ساتھ نکلے ہیں کہ دنیا میں ضمیر کی آواز اب بھی موجود ہے۔ صمود بحری بیڑے، جس میں 50 سے زائد کشتیاں، کئی سو کارکن، وکلاء، اراکین پارلیمنٹ اور 44 سے زیادہ ممالک کے صحافی موجود ہیں، یہ ایسا قافلہ ہے کہ جو اس سے پہلے دنیا نے کبھی نہیں دیکھا۔ اسپین، اٹلی، تیونس اور یونان سے یہ بحری قافلہ مزاحمت کے علامت بن کر اٹھا، اپنی ڈیک پر لکھنے والوں، ڈاکٹروں، کھلاڑیوں، فنکاروں اور عام مردوں اور عورتوں کو لے کر نکلا، جنہوں نے غزہ کو نظر انداز کرنے سے انکار کیا ہے۔
مصنفہ سمیعہ غنوشی کہتی ہیں کہ اسرائیلی استکبار کے خلاف، جو خود کو محفوظ سمجھتا ہے، واشنگٹن کے خلاف، جو اسے ویٹو کر کے اور بم سپلائی کر کے بچاتا ہے، یہ شکستہ اور ٹوٹی ہوئی کشتیاں، ایک قدیم اور طاقتور ہتھیار ثابت ہو رہی ہیں، استقامت دکھا رہی ہیں۔ غنوشی نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ آج صیہونی حکومت نسل کشی اور نسلی تطہیر کے ذریعے غزہ کے محاصرے کو توڑنے کے لیے کوشاں صمود بحری بیڑے کی تحقیر کر رہی ہے، لیکن پوری دنیا میں یہ آواز گونج رہی ہے، ہر زبان میں، ہر دارالحکومت میں نسل کشی کے خاتمے کے لیے آوازیں بلند ہو رہی ہیں، اسرائیل نے ہر درخواست پر آنکھیں بند کر لی ہیں، جب کہ واشنگٹن نے اپنے ویٹو پاور کا استعمال کرتے ہوئے قراردادوں کو دبانے یا سلامتی کونسل میں پہنچنے سے پہلے ہی انہیں انجام تک پہنچا دیا ہے، جس سے اخلاقی خلا پیدا ہوا، اس خلا کو پورا کرنیکے لئے انسانیت کا ضمیر حرکت میں آیا ہے، صمود کاروان اس کا مظہر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صمود کاروان
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔