اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا کشتیوں کو سمندر میں ڈبونے کا منصوبہ بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
اسرائیل کا گلوبل صمود فلوٹیلا کشتیوں کو سمندر میں ڈبونے کا منصوبہ بے نقاب WhatsAppFacebookTwitter 0 1 October, 2025 سب نیوز
تل ابیب/غزہ(آئی پی ایس) عرب اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کی امداد کے لیے روانہ “گلوبل صمود فلوٹیلا” کو روکنے کے لیے بعض کشتیوں کو سمندر میں ڈبونے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق فلوٹیلا جب ہائی رسک زون میں داخل ہوا تو اسرائیلی بحری جہازوں نے اس کا گھیراؤ کر لیا اور دو مرکزی کشتیوں کے کمیونیکیشن سسٹم جام کر دیے۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ اقدام امدادی سامان غزہ پہنچنے سے روکنے کے لیے کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی فلسطین کے لیے خصوصی نمائندہ فرانسیسکا البانیز نے اٹلی کے جہاز پیچھے ہٹانے کے فیصلے پر سخت ردعمل ظاہر کیا اور کہا کہ یہ اسرائیل کو مزید مظالم اور نسل کشی کا موقع دینے کے مترادف ہے۔
کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے بھی خبردار کیا کہ پُرامن امدادی مشن پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور انسانیت کے خلاف جرم ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفخر زمان اورصائم ایوب ایشیا کپ کے بعد آئی ایل ٹی 20 میں بھی دھوم مچانے کو تیار اگر مجھے امن کا نوبل انعام نہ ملا تو یہ امریکہ کی توہین ہو گی: ٹرمپ وفاقی حکومت کا ناراض پیپلز پارٹی کو منانے کا فیصلہ آزاد کشمیر میں ہڑتال کا تیسرا روز، ایکشن کمیٹی کی کال پر مظاہرین کا مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ فلپائن میں زلزلے نے تباہی مچا دی، 60سے زائد افراد جاں بحق، سینکڑوں زخمی، عمارتیں زمین بوس غزہ سے اسرائیلی انخلا واضح ہو، محض اصول کافی نہیں، قطری وزیراعظم فیلڈ مارشل عاصم منیر کی میرے بارے میں تعریف کسی اعزاز سے کم نہیں، ڈونلڈ ٹرمپCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔