بھارتی کرکٹ بورڈ کا دبئی میں محسن نقوی کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرانے پر غور
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
بھارتی کرکٹ بورڈ کا دبئی میں محسن نقوی کے خلاف چوری کا مقدمہ درج کرانے پر غور WhatsAppFacebookTwitter 0 1 October, 2025 سب نیوز
دبئی (سب نیوز)ایشیا کپ ٹرافی کے تنازع پر نیا طوفان کھڑا ہوگیا ، ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی)کے صدر محسن نقوی نے بھارتی میڈیا کی پھیلائی گئی خبروں کو جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ میں نے نہ تو بی سی سی آئی سے معافی مانگی ہے اور نہ ہی کبھی مانگوں گا۔ بھارتی میڈیا جھوٹ پر چلتا ہے، حقائق پر نہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دبئی میں اے سی سی اجلاس کے دوران بھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے محسن نقوی سے ٹرافی دینے کا مطالبہ کیا لیکن محسن نقوی نے واضح کر دیا کہ یہ معاملہ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ ہی نہیں۔ذرائع کے مطابق راجیو شکلا نے بار بار ٹرافی کے لیے اصرار کیا لیکن محسن نقوی نے کہا کہ اگر بھارتی ٹیم کو ٹرافی چاہیے تو خود اے سی سی کے دفتر آ کر وصول کرے۔محسن نقوی کا مزید کہنا تھا کہ وہ فائنل کے روز بھی ٹرافی دینے کے لیے موجود تھے لیکن بھارتی ٹیم نے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا۔ نتیجتا تقریب ڈیڑھ گھنٹے تاخیر کا شکار ہوئی اور میدان میں رکھی ٹرافی واپس لے جائی گئی، جبکہ بھارتی کھلاڑی اس کا انتظار کرتے رہ گئے۔بھارتی میڈیا اور بورڈ نے اس معاملے کو سیاست کا رنگ دینے کی کوشش کی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق بی سی سی آئی نے محسن نقوی کے خلاف دبئی میں ٹرافی کی چوری اور زبردستی قبضے کی شکایت درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور انہیں 72 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے۔جس پر محسن نقوی نے واضح کیا ہے کہ وہ بی سی سی آئی سے کبھی معافی نہیں مانگیں گے۔محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بھارت کھیل کو سیاست میں گھسیٹ رہا ہے اور یہ رویہ نہ صرف کرکٹ کی غیر جانبداری بلکہ کھیل کی اصل روح کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے۔دوسری جانب بھارتی کھلاڑیوں نے ٹرافی کے ساتھ جعلی تصاویر سوشل میڈیا پر ڈال کر اپنی عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی، جبکہ سابق بھارتی کرکٹرز کپل دیو اور سید کرمانی خود اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ کھیل کو سیاست سے آلودہ کرنا افسوسناک عمل ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپیپلز پارٹی اور ن لیگ کے رہنمائوں کی اسپیکر سے ملاقات ، دونوں جماعتوں کا لفظی جنگ بند کرنے پر اتفاق پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے رہنمائوں کی اسپیکر سے ملاقات ، دونوں جماعتوں کا لفظی جنگ بند کرنے پر اتفاق نومئی کے 11مقدمات پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی سے ایتھوپیا کے سفیر ڈاکٹر جمال بکر عبداللہ کی الوداعی ملاقات ویڈیو لنک ٹرائل کہہ کر دھوکے سے حاضری لگوائی گئی، عمران خان اب پیش نہیں ہونگے، علیمہ خان حکومت سے ماضی میں جیسے علیحدہ ہوئے وہ ہمیں یاد ہے بھولے نہیں، قمر زمان کائرہ پیپلز پارٹی الزام تراشی نہ کرے، مقابلہ کرنا ہے تو پرفارمنس کی بنیاد پر کریں، عظمی بخاریCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بھارتی کرکٹ محسن نقوی
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔