عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو ملاقات کے لیے کل بلالیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے علی امین گنڈاپور کو مزید بات کرنے سے روکتے ہوئے ملاقات کے لیے کل بلایا ہے لیکن انہیں وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کی کوئی بات نہیں کی۔
توشہ خانی ٹو کیس کی سماعت کے بعد اڈیالہ جیل کے باہر موجود میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے علیمہ خان اور علی امین گنڈاپور کو ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے روک دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہدایت کی ہے کہ علی امین گنڈا پور کل ان سے جیل میں ملنے آئیں، بانی نے آج چار نئے کوآرڈینیرز بھی مقرر کیے ہیں اور ملاقاتوں کی فہرست بھی چار رکنی کوآرڈینیٹرز کی ٹیم تیار کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور اور علیمہ خان کی بیان بازی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پبلک میں اس طرح ایک دوسرے پر الزامات نہیں لگانے چاہئیں، ہمارے آپس کے اختلافات کا فائدہ مخالفین کو ہو رہا ہے۔
علی ظفر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا وزیر اعلیٰ کا اختیار ہے وہ انتظامی معاملات میں جس کو چاہے تبدیل کرے۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر نے بتایا کہ عمر ایوب کے مقدمات کا فیصلہ ہونے تک عمران خان نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔