امریکا میں شٹ ڈاؤن نافذ‘ہزاروں ملازمین کی تنخواہیں رک گئیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251002-08-30
واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا میں ایک بار پھر شٹ ڈاؤن شروع ہو گیا جس کے باعث ہزاروں سرکاری ملازمین کے تنخواہوں سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حکومتی فنڈنگ سے متعلق بل امریکی سینیٹ سے منظور نہ کرایا جاسکا جو امریکا میں شٹ ڈاؤن کا باعث بنا، شٹ ڈاؤن کی وجہ سے کچھ سرکاری اداروں کا کام رک گیا ہے اور ایک اندازے کے مطابق 75 ہزار کے قریب ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی بھی رک گئی ہیِ8 لاکھ وفاقی ملازمین کوبلا معاوضہ رخصت پر بھیجے جانے کا امکان ہے جبکہ صدر ٹرمپ کی بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی دھمکی دے دی ہے۔ ڈیموکریٹکس اور ری پبلکنز رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی سابق نائب صدر کملا ہیرس نے سوشل میڈیا پر لکھا کانگریس سے تعلق رکھنے والے ری پبلکنز نے صرف اس لیے شٹ ڈاؤن کیا کیونکہ انہوں نے عوام کی ہیلتھ کیئر کی رقم بڑھانے سے انکار کر دیا ہے، واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس، ایوان نمائندگان اور سینیٹ کی باگ ڈور ری پبلکنز کے ہاتھ میں ہے اور یہ شٹ ڈاؤن بھی ان کا ہی ہے۔ دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان کے ریپبلکن اسپیکر مائیک جانسن نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈیموکریٹکس نے باقاعدہ طور پر حکومت کو بند کرنے لیے ووٹ دیا، جس کے باعث آج بچے اور مائیں نیوٹریشن کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں اور سابق فوجی ہیلتھ کیئر اور خودکشی سے بچنے والے منصوبے سے مستفید نہیں ہو رہے، فوجی اور ٹی ایس اے ایجنٹس بھی تنخواہوں سے محروم ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا میں اس سے پہلے 19-2018 میں سب سے طویل شٹ ڈاؤن 35 دن تک جاری رہ چکا ہے اور یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں ہوا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امریکا میں شٹ ڈاو ن
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔