غزہ تک امدادی سامان لیجانے کی کوشش میں رواں گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل سینکڑوں انسانی حقوق کے کارکنوں کو اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی سمندری حدود سے گرفتار کرلیا ہے، جن میں جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی شامل ہیں۔

معروف برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق فلوٹیلا میں شامل ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کو بدھ کے روز اسرائیلی افواج نے اس وقت حراست میں لے لیا، جب فوج نے غزہ امدادی فلوٹیلا کی متعدد کشتیوں پر سوار غیر ملکی کارکنوں کو گرفتار کر کے انہیں اسرائیلی بندرگاہ کی طرف موڑ دیا۔

Already several vessels of the Hamas-Sumud flotilla have been safely stopped and their passengers are being transferred to an Israeli port.


Greta and her friends are safe and healthy. pic.twitter.com/PA1ezier9s

— Israel Foreign Ministry (@IsraelMFA) October 1, 2025

یہ اقدام گلوبل صمود فلوٹیلا کی صورت میں اس احتجاج میں رخنہ ڈالنے کے مترادف تھا جو غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف دنیا بھر میں سب سے نمایاں علامت بن چکا تھا۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گریٹا تھنبرگ جہاز کے عرشے پر بیٹھی ہیں اور ان کے گرد فوجی کھڑے ہیں۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں فلوٹیلا کو ’حماس-صمود فلوٹیلا‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فلوٹیلا میں شامل کئی کشتیوں کو بحفاظت روک دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی دھاوا اور گرفتاریاں، عالمی سطح پر احتجاج بھڑک اٹھا، اٹلی میں ہڑتال کا اعلان

’۔۔۔اور ان کے مسافروں کو اسرائیلی بندرگاہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ گریٹا اور ان کے ساتھی محفوظ اور صحت مند ہیں۔‘

معروف صحافی حامد میر نے جمعرات کی صبح ایکس پر اپنی پوسٹ میں گلوبل صمود فلوٹیلا سے اغوا کیے جانے والے مشتاق احمد خان اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پاکستان فلسطین فورم نے نیشنل پریس کلب پر آج بروز جمعرات سہ پہر 3 بجے احتجاجی مظاہرے کی کال دی ہے۔

مزید پڑھیں:اسرائیلی رکاوٹوں کے باوجود صمود فلوٹیلا غزہ کی طرف رواں دواں

ایکس پر فورم کی پوسٹ کے مطابق مظاہرے میں سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کی اسرائیلی قابض فوج کے ہاتھوں گرفتاری اور ان کے ساتھ 44 ممالک کے دیگر رضاکاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔

’مظاہرے کا مقصد عالمی انسانی امدادی مشن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل جماعت اسلامی حامد میر گریٹا تھنبرگ گلوبل صمود فلوٹیلا مشتاق احمد خان وزارت خارجہ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسرائیل جماعت اسلامی گریٹا تھنبرگ گلوبل صمود فلوٹیلا مشتاق احمد خان

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم