دورانِ مون سون ملک میں معمول سے زیادہ بارش ریکارڈ، آئندہ موسم کی بھی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
جون، جولائی اور اگست میں ملک کے زیادہ تر حصوں میں معمول یا معمول سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔
مون سون میں 10 کے قریب بارش کے اسپیل آئے جس کے باعث شمالی اور مشرقی علاقوں میں سیلاب آیا جس سے سنگین صورتحال پیدا ہوئی۔
آئندہ موسم میں گلگت بلتستان، کشمیر اور شمالی پنجاب میں معمول سے کم بارش کا امکان ہے جبکہ سندھ، جنوبی بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں معمول کے قریب بارش متوقع ہیں، جس سے صورتحال مستحکم رہے گی۔
اسی طرح، آئندہ موسم میں ملک بھر میں اوسط درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
گلگت بلتستان اور شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کی پیش گوئی ہے جس کے باعث زیادہ گرمی کا خدشہ ہے۔
بارانی علاقوں میں پانی کی کمی ہوگی لہٰذا کسان تکمیلی آب پاشی پر انحصار بڑھائیں۔ ربیع کی فصلوں کی بوائی سے قبل مٹی میں نمی کو یقینی بنائیں، پی ایم ڈی سے زرعی مشاورت حاصل کریں۔
سیلاب متاثرہ علاقوں میں فوری بوائی سے گریز کریں، کھیتوں کو خشک ہونے کا وقت دیں۔
ڈینگی کا خطرہ
اکتوبر اور نومبر میں مرکزی اور جنوبی شہروں میں ڈینگی پھیلنے کا ماحول سازگار ہو سکتا ہے۔ موسم کے آخر میں طویل خشک سالی سے میدانی علاقوں میں دھند اور اسموگ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
محکمہ موسمیات نے ہدایت کی ہے کہ عوام موسم کی تازہ ترین صورتحال سے باخبر رہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان معمول سے زیادہ علاقوں میں میں معمول
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔