7 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں 2025 کے پہلے سپرمون کا نظارہ کیا جائے گا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 اکتوبر2025ء)اکتوبر کا مہینہ چاند کے حوالے سے کچھ خاص ثابت ہونے والا ہے کیونکہ اس ماہ کا مکمل چاند زمین کے قریب ترین ہونے کی وجہ سے سپر مون قرار دیا جائے گا۔جب چاند زمین کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے تو وہ معمول سے زیادہ بڑا اور روشن نظر آتا ہے اور اسے سپر مون کہا جاتا ہے۔7 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں 2025 کے پہلے سپر مون کا نظارہ کیا جائے گا، یہ سپر مون معمول سے 14 فیصد زیادہ بڑا اور 30 فیصد زیادہ روشن نظر آئے گا، اس کے بعد 5 نومبر اور پھر 5 دسمبر کو بھی سپر مون کا نظارہ کرنا ممکن ہوگا جبکہ جنوری 2026 کے شروع کا مکمل چاند بھی سپر مون ہوگا مگر اسے 2025 کا حصہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
ہر سال 3 یا 4 سپر مون کا نظارہ ہوتا ہے، 7 اکتوبر کو آسمان پر طلوع ہونے والا چاند زمین سے 2 لاکھ 24 ہزار599 میل کے فاصلے پر ہوگا، یہ 11 ماہ بعد پہلا سپرمون ہوگا، آخری بار ایسا چاند نومبر 2024 میں دیکھنے میں آیا تھا۔(جاری ہے)
رواں سال کا سب سے روشن چاند نومبر میں دکھائی دے گا جب وہ زمین سے 2 لاکھ 21 ہزار 817 میل کے فاصلے پر ہوگا۔سپر مون اس لئے بھی خاص ہوتا ہے کیونکہ جب یہ افق کے قریب ہوتا ہے تو اپنے حجم سے بھی زیادہ بڑا نظر آتا ہے، سائنسدانوں کے خیال میں مختلف حجم والی اشیاء جیسے درختوں اور عمارات کا چاند سے فاصلہ آنکھوں کو دھوکا دیتا ہے اور چاند معمول سے زیادہ بڑا نظر آتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مون کا نظارہ زیادہ بڑا ہوتا ہے
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔