غزہ فلوٹیلا پر حملہ، ترکی نے اسرائیل کے خلاف قانونی جنگ شروع کر دی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
استنبول: ترک شہریوں کی گرفتاری کے بعد استنبول کے چیف پراسیکیوٹر کے دفتر نے غزہ جانے والی "گلوبل صمود فلوٹیلا" پر اسرائیلی کارروائی کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ترک میڈیا کے مطابق، یہ تحقیقات اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کے کنونشن کی روشنی میں کی جا رہی ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں کارروائی کرتے ہوئے 24 ترک شہریوں کو گرفتار کیا، جبکہ مجموعی طور پر 30 ترک شہریوں کو حراست میں لے کر یورپ ڈی پورٹ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
پراسیکیوٹر کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ تحقیقات میں "آزادی سے محرومی، ٹرانسپورٹ کے ذرائع پر قبضہ یا حراست، لوٹ مار، مادی نقصان اور تشدد" جیسے جرائم پر غور کیا جائے گا۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں اسرائیلی کارروائی کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اسے کھلی خلاف ورزی قرار دے رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔