مشتاق احمد خان سمیت تمام گرفتار پاکستانی فوری رہا کیے جائیں، شہباز شریف کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ کے لیے امدادی سامان لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا میں پاکستانی وفد کی شرکت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وفد کے سربراہ سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت تمام گرفتار پاکستانی شہریوں کی فوری رہائی اور وطن واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی دھاوا اور گرفتاریاں، عالمی سطح پر احتجاج بھڑک اٹھا، اٹلی میں ہڑتال کا اعلان
وزیر اعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ وہ صمود غزہ فلوٹیلا میں پاکستانیوں کی باوقار شرکت کو سراہتے ہیں۔
میں "صمود غزہ فلوٹیلا" میں پاکستان کے شہریوں کی باوقار شرکت کو سراہتا ہوں۔ مشتاق احمد خان صاحب، مظہر سعید شاہ صاحب، وہاج احمد صاحب، ڈاکٹر اسامہ ریاض صاحب، اسماعیل خان صاحب، سید عزیز نظامی صاحب، اور فہد اشتیاق صاحب سمیت دیگر پاکستانیوں نے انسانی ہمدردی کے اصولوں کے عین مطابق اس… https://t.
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) October 2, 2025
ان کے مطابق مشتاق احمد خان، مظہر سعید شاہ، وہاج احمد، ڈاکٹر اسامہ ریاض، اسماعیل خان، سید عزیز نظامی اور فہد اشتیاق سمیت دیگر پاکستانی شہریوں نے انسانی ہمدردی کے اصولوں کے مطابق اس عظیم امدادی مشن میں حصہ لیا۔
’یہ اقدام پاکستانی عوام کی امن پسند امنگوں، انصاف کے لیے جدوجہد اور ضرورت مندوں کی مدد کے جذبے کی نمائندگی کرتا ہے۔‘
مزید پڑھیں:مشتاق احمد خان کی اہلیہ کا شوہر کی رہائی کے لیے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ
شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ حکومتِ پاکستان انسانی جان کے احترام، محفوظ رسائی اور بلا تعطل امداد کے اصولوں کی حمایت کرتی ہے اور اپنے شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حکومت اپنے شہریوں کی سلامتی، وقار اور جلد از جلد واپسی کے لیے دعاگو اور کوشاں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سابق سینیٹر شہباز شریف گلوبل صمود فلوٹیلا مشتاق احمد خان وزیر اعظم
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سابق سینیٹر شہباز شریف گلوبل صمود فلوٹیلا مشتاق احمد خان مشتاق احمد خان شہباز شریف شہریوں کی کے لیے
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔