بلوچستان، لسیبلہ میں مسافر بس اور ٹرک میں تصادم، 6 جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں مسافر کوچ اور پتھر سے بھرے ٹرک میں تصادم کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق جبکہ 19 زخمی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں اوتھل سے تقریباً پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ایک خوفناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں مسافر کوچ اور پتھر سے لدے ٹرک کے درمیان شدید تصادم ہوا۔
تصادم کے نتیجے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق جبکہ 19 دیگر زخمی ہوگئے۔ زخمیوں اور لاشوں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ڈی ایچ کیو اوتھل منتقل کر دیا۔ ڈاکٹروں نے 4 زخمیوں کی حالت کو تشویش ناک قرار دیا ہے جبکہ زخمیوں میں تین خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
حادثہ قومی شاہراہ پر اوتھل سے کچھ دور ایک کروڈنگ پوائنٹ کے قریب پیش آیا جہاں کوئٹہ سے کراچی جانی والی مسافر کوچ تیز رفتاری اور ممکنہ طور پر سڑک کی کنڈیشن کی وجہ سے پتھر لے جانے والے ایک بھاری ٹرک سے ٹکرا گئی۔
کوچ میں تقریباً 40 سے زائد مسافر سوار تھے، جن میں خواتین، بچے اور عام مسافر شامل تھے ٹرک کی بھاری لوڈنگ اور کوچ کی تیز رفتار نے تصادم کی شدت کو مزید بڑھا دیا، جس سے کوچ کا فرنٹ حصہ شدید متاثر ہوا اور کئی مسافر گھائل اور زخمی ہوگئے۔
ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی مقامی پولیس، لیویز فورس اور ایمرجنسی سروسز 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچیں۔
اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے چار کی حالت نازک ہے، جنہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے اور انہیں ممکنہ طور پر کراچی کے بڑے اسپتالوں میں منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
زخمیوں میں تین خواتین اور دو بچوں کی حالت خاص طور پر تشویش ناک بتائی جا رہی ہے جبکہ باقی زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔