ٹی 20 ورلڈ کپ 2026: نمیبیا اور زمبابوے نے کوالیفکیشن حاصل کر لی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ہرارے: نمیبیا اور زمبابوے نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے لیے کوالیفائی کرلیا۔
افریقا ریجن کوالیفائنگ راؤنڈ میں زمبابوے نے فائنل میں جگہ بنائی جبکہ نمیبیا بھی ایونٹ میں رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس طرح افریقی ریجن سے یہ دونوں ٹیمیں میگا ایونٹ کا حصہ بن گئیں۔
اس سے قبل یورپی کوالیفائرز میں تاریخ رقم کرتے ہوئے اٹلی نے پہلی مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں جگہ بنائی، جبکہ نیدرلینڈز بھی یورپ سے کوالیفائی کرنے والی ٹیموں میں شامل ہو چکا ہے۔
آئی سی سی کے مطابق آئندہ سال ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں **کل 20 ٹیمیں** میدان میں اتریں گی۔ ان میں میزبان بھارت اور سری لنکا کے ساتھ ساتھ افغانستان، آسٹریلیا، بنگلادیش، انگلینڈ، جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز، امریکا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں جو گزشتہ ورلڈکپ کے سپر ایٹ مرحلے میں پہنچنے کے باعث براہِ راست کوالیفائی کرچکے ہیں۔
اس کے علاوہ پاکستان، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ نے اپنی **آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ** کی بنیاد پر ایونٹ میں جگہ بنائی ہے۔ اب باقی تین ٹیموں کا فیصلہ امریکا کے ایک اور ایشیا/ایسٹ ایشیا پیسیفک ریجن سے ہوگا، جس کے بعد مکمل لائن اپ سامنے آجائے گی۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں شامل ہونے والی ٹیموں کی بڑی تعداد اور نئے ممالک کی شمولیت نے شائقین کے جوش و خروش میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔