وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی چیف جسٹس سے ملاقات کی خواہش، سپریم کورٹ میں درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں باضابطہ درخواست دائر کر دی۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کی چیف جسٹس سے ملاقات کا وقت مقرر کیا جائے تاکہ صوبے کے اہم معاملات پر گذارشات براہِ راست پیش کی جا سکیں۔
علی امین گنڈا پور نے مؤقف اپنایا ہے کہ وہ صوبے کے انتظامی معاملات پر بانی پاکستان تحریک انصاف سے مشاورت کے پابند ہیں، تاہم بانی پی ٹی آئی اس وقت اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا کابینہ میں تبدیلی، پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنما علی امین گنڈا پور کے نشانے پر
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملاقاتوں کی اجازت دی تھی لیکن چند ملاقاتوں کے بعد سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا، جس پر توہین عدالت کی درخواست بھی بے نتیجہ رہی۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کو اس وقت سنگین معاشی و قانونی چیلنجز اور امن و امان کے مسائل کا سامنا ہے۔ پنجاب کی جانب سے بین الصوبائی گندم اور دیگر اجناس کی تجارت روکنے کے باعث مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن اور چیمبر اپیل زیر سماعت ہیں، اس لیے چیف جسٹس سے ملاقات ناگزیر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چیف جسٹس چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ علی امین گنڈا پور ملاقات کی خواہش وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چیف جسٹس چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ علی امین گنڈا پور ملاقات کی خواہش وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور خیبر پختونخوا سپریم کورٹ سے ملاقات چیف جسٹس
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں