آئی فون خریدنے کیلئے اپنا گردہ بیچنے والا شخص تاحیات بڑی مشکل میں پھنس گیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
چین کے صوبے اینہوئی کے شہری نے محض 17 سال کی عمر میں آئی فون خریدنے کی خواہش پوری کرنے کے لیے اپنا گردہ بیچا تھا اور اب کئی سال بعد اس کی قیمت چکا رہے ہیں اور انہیں طبی حوالے سے تاحیات معذور قرار دیا گیا ہے۔
غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اینہوئی کے شہری وانگ شینگکون 2011 میں 17 سال کے تھے اور انہیں آئی فون 4 خریدنے کا شوق تھا لیکن غربت کی وجہ سے وہ اپنا خواب پورا نہیں کر پا رہے تھے اور اس وقت آئی فون 4کو اسٹیٹس اور دولت کا نمونہ سمجھا جاتا تھا۔
وانگ شینگکون کو آن لائن پوسٹس پڑھنے کے بعد اپنا خواب پورا کرنے کے لیے کچھ غیرمعمولی کام کرنے کی سوجھی اور غیرقانونی سرجری کے ذریعے اپنا ایک گردہ بیچنے کے لیے تیار ہوگیا اور اس آپریشن کے بدلے انہیں 20 ہزار یوآن دیے گئے۔
انہوں نے اس رقم سے آئی فون 4 اور آئی پیڈ 2 خریدا لیکن جلد ہی ان کی صحت بگڑنے لگی، انہیں تشویش ناک انفیکشن ہوا، جس کے نتیجے میں ان کا دوسرا گردہ بھی کمزور ہونے لگا۔
رپورٹ میں بتایا کہ اس وقت جب ان کی والدہ نے دیکھا کہ بیٹے کے پاس انتہائی مہنگا فون ہے تو ان سے پوچھا تو وانگ شینگکون نے سچ بتایا دیا اور اپنی والدہ کو دکھی کردیا اور دوسری جانب خود ان کی صحت مزید خراب رہنے لگی اور بعد ازاں ڈاکٹروں نے انہیں طبی بنیاد پر تاحیات معذور قرار دیا۔
حکام نے کارروائیوں کے دوران غیرقانونی سرجریز کرنے والے گینگ کو پکڑ لیا اور مدد کرنے پر وانگ شینگکون کو 1.
رپورٹ میں مزید بتایاگیا کہ آج 14 سال بعد وانگ شینگکون کے واحد گردے اس حد تک کمزور ہوگیا ہے کہ 25 فیصد کام نہیں کر رہا ہے اور انہیں اپنی زندگی کے باقی ایام ڈائیلیسز میں گزارنے پڑیں گے اور اب وہ آئی فون کے لیے اپنا گردہ بیچنے کو زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیتے ہوئے پشیمان ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔