Jasarat News:
2026-07-24@08:26:45 GMT

صمود فلوٹیلا پر اسرائیل کا دھاوا

اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی جانب جانے والے صمود فلوٹیلا کو گھیر کر اس پر دھاوا بول دیا اور صمود فلوٹیلا کی انچارچ گریٹا تھمبرک سمیت سیکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ صمود فلوٹیلا کے 44 ملکوں کے پانچ سو سے زائد مسافروں کو زبردستی اغوا کرنے کے بعد انہیں زبردستی اشدود بندرگاہ لے جایا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع کرسٹو نے اسرائیلی کارروائی کی تصدیق کی ہے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کی 40 سے زائد کشتیاں غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے لیے امدادی سامان لے کر غزہ سے 60 کلو میٹر تک قریب پہنچ گئی تھیں تو اسرائیلی ڈرونزکی سرگرمیاں بیڑے کے اوپر اور اس کے ارد گرد بڑھ گئیں۔ فلوٹیلا انتظامیہ نے بتایا کہ وہ ہائی الرٹ پر ہیں۔ اسرائیلی بحریہ نے بھی یہاں دھاوا بول دیا۔ 12 سے زائد اسرائیلی کشتیوں اور بحریہ نے بدھ کی شب پاکستان وقت کے مطابق سوا گیارہ بجے کے قریب فلوٹیلا کی مرکزی کشتی الما پر دھاوا بول دیا۔ فلوٹیلاسے یوٹیوب پر براہ راست نشریات چلائی جا رہی تھی۔ حملے کے بعد نشریات کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ اسرائیل کی جانب سے فلوٹیلا انتظامیہ سے کہا گیا وہ امداد غزہ کے بجائے اشدود بندرگاہ پر اتار دیں، تاہم فلوٹیلا منتظمین نے اسے مسترد کردیا اور کہا کہ ان کا اصل مقصد غزہ کا غیر قانونی اور غیر انسانی محاصرہ توڑنا ہے۔ پاکستان کے سابق سینیٹر اور جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما مشتاق احمد خان سمیت فلوٹیلا میں موجود مسافروں کو اسرائیل منتقل کیا گیا ہے اور دو دن کے اندر ان سب کو اٹلی واپس بھیج دیا جائے گا۔

بلاشبہ انسانی ہمدردی کے اس امدادی قافلہ کو اسرائیل کی جانب سے روکے جانا کھلی دہشت گردی ہے اور اسرائیل کا یہ بزدلانہ حملہ عالمی ضمیر کا امتحان بن گیا ہے۔ غزہ کا طویل بحران سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے اور اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے یہ بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔ اسرائیل کی جانب سے فلوٹیلا کے امدادی مشن کی کشتیوں پر چڑھائی کے بعد اٹلی سمیت دیگر ملکوں میں اسرائیل کے ظلم و درندگی کے خلاف سخت احتجاج شروع ہوگیا ہے اور فلوٹیلا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ اٹلی کی سب سے بڑی مزدور یونین CGiL نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعہ کو اسرائیلی کارروائی کے خلاف ملک گیر ہڑتال کرے گی۔ رات ہوجانے کے باوجود مختلف اطالوی شہروں میں مظاہرے بھی شروع ہوگئے تھے۔ اس کے علاؤہ روم اور ناپولی سمیت کئی شہروں میں مظاہرین نے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین سروس روک دی۔ اطالوی شہر جنیوا میں بندرگاہ کے ورکرز نے احتجاج کرتے ہوئے کام بند کردیا۔ پورا یورپ امڈ کر سڑکوں پر آگیا ہے۔ جرمن کے دارالحکومت برلن کے مرکزی ٹرین اسٹیشن کو بند کردیا گیا ہے۔ ترکی، بلجیم، اٹلی، جرمنی اور اسپین میں زبردست مظاہرے ہورہے ہیں۔ پاکستان میں بھی جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پرکراچی سے لیکر خیبر تک پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔ جس میں اسرائیل کی درندگی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا گیا۔ فریڈم فلوٹیلا کو روکنے پر کولمبیا کے صدر نے اسرائیلی سفارتی عملے کو ملک بدر کردیا ہے۔ اسپین، اٹلی، یونان نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اس کے عوام کو جو اس قافلے میں شامل ہیں رتی برابر بھی نقصان نہیں ہونا چاہیے ورنہ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

بے شک صمود فلوٹیلا اس وقت مزاحمت کی بہت بڑی علامت بن چکا ہے اور اس مزاحمت نے اسرائیل کو بری طرح بے نقاب کردیا ہے کہ وہ جس طرح بچوں کے دودھ اور زخمیوں کے لیے ادویات بھی غزہ تک پہنچنے نہیں دے رہا ہے۔ صمود فلوٹیلا پر حملہ انسانیت پر حملہ ہے۔ ایک طرف قحط، فاقے، بھوک اور انسانوں کا بہتا ہوا لہو ہے اور دوسری طرف دنیا کے مختلف علاقوں سے پرامن صمود فلوٹیلا جو کہ اہل غزہ کے لیے امداد لیکر آگے بڑھ رہا تھا لیکن سفاک اور ظالم درندہ صفت اسرائیل نے اس پر حملہ کیا جو کہ انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ انسانیت، جمہوریت، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کہاں ہیں؟ ٹرمپ کی محبت میں ڈوبے مسلم حکمران کہاں ہیں؟ اقوام متحدہ کے قوانین کیا صرف کمزور ملکوں کے لیے ہیں۔ دو سال سے اسرائیل نے غزہ پر ظلم و درندگی کی انتہا کی ہے 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں لیکن امت مسلمہ اب تک سوئی ہوئی ہے۔ امت مسلمہ کو اس وقت غیرت اور بیداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور انقلابی اقدامات کے ذریعے یہ بات ثابت کرنا ہوگی کہ ہم چند ہیں مگر قابل فخر ہیں۔ پاکستان سے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کے علاؤہ پانچ دیگر افراد اور بھی ہیں جو صمود فلو ٹیلا میں شامل ہیں۔ حکومت پاکستان کو تمام گرفتار افراد کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور ایک ایٹمی ملک ہونے کے ناتے عالم اسلام کی قیادت کا حق ادا کرنا ہوگا تاکہ اسرائیل کو عالمی عدالت کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کیا جاسکے اور اس پر مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام کا مقدمہ چلایا جائے۔ قابض اسرائیل کو فلسطین سے مکمل طور پر بے دخل کیا جائے اور دو ریاست کے بجائے فلسطین مکمل طور پر مسلمانوں کے حوالے کیا جائے ورنہ پوری دنیا کا امن کسی بھی وقت داؤ پر لگ سکتا ہے۔ مسلمان قبلہ اوّل پر قبضہ کسی قیمت پر برداشت نہیں کریں گے اور گریٹر اسرائیل منصوبہ کسی طور پر بھی کامیاب نہیں ہوگا۔

قاسم جمال.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صمود فلوٹیلا اسرائیل کی نے اسرائیل اسرائیل کو کی جانب کے خلاف کے لیے گیا ہے اور اس ہے اور

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم