Jasarat News:
2026-06-03@02:28:54 GMT

صمود فلوٹیلا پر اسرائیل کا دھاوا

اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی جانب جانے والے صمود فلوٹیلا کو گھیر کر اس پر دھاوا بول دیا اور صمود فلوٹیلا کی انچارچ گریٹا تھمبرک سمیت سیکڑوں افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ صمود فلوٹیلا کے 44 ملکوں کے پانچ سو سے زائد مسافروں کو زبردستی اغوا کرنے کے بعد انہیں زبردستی اشدود بندرگاہ لے جایا گیا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع کرسٹو نے اسرائیلی کارروائی کی تصدیق کی ہے۔ گلوبل صمود فلوٹیلا کی 40 سے زائد کشتیاں غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے لیے امدادی سامان لے کر غزہ سے 60 کلو میٹر تک قریب پہنچ گئی تھیں تو اسرائیلی ڈرونزکی سرگرمیاں بیڑے کے اوپر اور اس کے ارد گرد بڑھ گئیں۔ فلوٹیلا انتظامیہ نے بتایا کہ وہ ہائی الرٹ پر ہیں۔ اسرائیلی بحریہ نے بھی یہاں دھاوا بول دیا۔ 12 سے زائد اسرائیلی کشتیوں اور بحریہ نے بدھ کی شب پاکستان وقت کے مطابق سوا گیارہ بجے کے قریب فلوٹیلا کی مرکزی کشتی الما پر دھاوا بول دیا۔ فلوٹیلاسے یوٹیوب پر براہ راست نشریات چلائی جا رہی تھی۔ حملے کے بعد نشریات کا رابطہ منقطع ہوگیا۔ اسرائیل کی جانب سے فلوٹیلا انتظامیہ سے کہا گیا وہ امداد غزہ کے بجائے اشدود بندرگاہ پر اتار دیں، تاہم فلوٹیلا منتظمین نے اسے مسترد کردیا اور کہا کہ ان کا اصل مقصد غزہ کا غیر قانونی اور غیر انسانی محاصرہ توڑنا ہے۔ پاکستان کے سابق سینیٹر اور جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما مشتاق احمد خان سمیت فلوٹیلا میں موجود مسافروں کو اسرائیل منتقل کیا گیا ہے اور دو دن کے اندر ان سب کو اٹلی واپس بھیج دیا جائے گا۔

بلاشبہ انسانی ہمدردی کے اس امدادی قافلہ کو اسرائیل کی جانب سے روکے جانا کھلی دہشت گردی ہے اور اسرائیل کا یہ بزدلانہ حملہ عالمی ضمیر کا امتحان بن گیا ہے۔ غزہ کا طویل بحران سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے اور اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے یہ بحران مزید شدت اختیار کرے گا۔ اسرائیل کی جانب سے فلوٹیلا کے امدادی مشن کی کشتیوں پر چڑھائی کے بعد اٹلی سمیت دیگر ملکوں میں اسرائیل کے ظلم و درندگی کے خلاف سخت احتجاج شروع ہوگیا ہے اور فلوٹیلا کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ اٹلی کی سب سے بڑی مزدور یونین CGiL نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعہ کو اسرائیلی کارروائی کے خلاف ملک گیر ہڑتال کرے گی۔ رات ہوجانے کے باوجود مختلف اطالوی شہروں میں مظاہرے بھی شروع ہوگئے تھے۔ اس کے علاؤہ روم اور ناپولی سمیت کئی شہروں میں مظاہرین نے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین سروس روک دی۔ اطالوی شہر جنیوا میں بندرگاہ کے ورکرز نے احتجاج کرتے ہوئے کام بند کردیا۔ پورا یورپ امڈ کر سڑکوں پر آگیا ہے۔ جرمن کے دارالحکومت برلن کے مرکزی ٹرین اسٹیشن کو بند کردیا گیا ہے۔ ترکی، بلجیم، اٹلی، جرمنی اور اسپین میں زبردست مظاہرے ہورہے ہیں۔ پاکستان میں بھی جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی ہدایت پرکراچی سے لیکر خیبر تک پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔ جس میں اسرائیل کی درندگی کے خلاف بھرپور احتجاج کیا گیا۔ فریڈم فلوٹیلا کو روکنے پر کولمبیا کے صدر نے اسرائیلی سفارتی عملے کو ملک بدر کردیا ہے۔ اسپین، اٹلی، یونان نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اس کے عوام کو جو اس قافلے میں شامل ہیں رتی برابر بھی نقصان نہیں ہونا چاہیے ورنہ اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

بے شک صمود فلوٹیلا اس وقت مزاحمت کی بہت بڑی علامت بن چکا ہے اور اس مزاحمت نے اسرائیل کو بری طرح بے نقاب کردیا ہے کہ وہ جس طرح بچوں کے دودھ اور زخمیوں کے لیے ادویات بھی غزہ تک پہنچنے نہیں دے رہا ہے۔ صمود فلوٹیلا پر حملہ انسانیت پر حملہ ہے۔ ایک طرف قحط، فاقے، بھوک اور انسانوں کا بہتا ہوا لہو ہے اور دوسری طرف دنیا کے مختلف علاقوں سے پرامن صمود فلوٹیلا جو کہ اہل غزہ کے لیے امداد لیکر آگے بڑھ رہا تھا لیکن سفاک اور ظالم درندہ صفت اسرائیل نے اس پر حملہ کیا جو کہ انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ انسانیت، جمہوریت، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کہاں ہیں؟ ٹرمپ کی محبت میں ڈوبے مسلم حکمران کہاں ہیں؟ اقوام متحدہ کے قوانین کیا صرف کمزور ملکوں کے لیے ہیں۔ دو سال سے اسرائیل نے غزہ پر ظلم و درندگی کی انتہا کی ہے 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں لیکن امت مسلمہ اب تک سوئی ہوئی ہے۔ امت مسلمہ کو اس وقت غیرت اور بیداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور انقلابی اقدامات کے ذریعے یہ بات ثابت کرنا ہوگی کہ ہم چند ہیں مگر قابل فخر ہیں۔ پاکستان سے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کے علاؤہ پانچ دیگر افراد اور بھی ہیں جو صمود فلو ٹیلا میں شامل ہیں۔ حکومت پاکستان کو تمام گرفتار افراد کی رہائی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور ایک ایٹمی ملک ہونے کے ناتے عالم اسلام کی قیادت کا حق ادا کرنا ہوگا تاکہ اسرائیل کو عالمی عدالت کے کٹہرے میں لا کر کھڑا کیا جاسکے اور اس پر مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام کا مقدمہ چلایا جائے۔ قابض اسرائیل کو فلسطین سے مکمل طور پر بے دخل کیا جائے اور دو ریاست کے بجائے فلسطین مکمل طور پر مسلمانوں کے حوالے کیا جائے ورنہ پوری دنیا کا امن کسی بھی وقت داؤ پر لگ سکتا ہے۔ مسلمان قبلہ اوّل پر قبضہ کسی قیمت پر برداشت نہیں کریں گے اور گریٹر اسرائیل منصوبہ کسی طور پر بھی کامیاب نہیں ہوگا۔

قاسم جمال.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صمود فلوٹیلا اسرائیل کی نے اسرائیل اسرائیل کو کی جانب کے خلاف کے لیے گیا ہے اور اس ہے اور

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان