KPC اور KUJ کی اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے حملے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری سہیل افضل خان اور مجلس عاملہ اور کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چودھری، سیکرٹری ریحان خان چشتی اور مجلس عاملہ نے اسلام آباد پریس کلب پر پولیس کے حملے اور صحافیوں پر ہونے والے بہیمانہ تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس افسوسناک واقعے کو نہ صرف آزادی صحافت پر کھلا حملہ بلکہ جمہوری اقدار کو روندنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ کراچی پریس کلب اور کراچی یونین آف جرنلسٹس( دستور) سے جاری بیان میں عہدیداروں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات ریاستی جبر کی عکاسی کرتے ہیں، جو کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صحافی برادری کو ریاستی اداروں کی جانب سے اس قدر سخت رویے کا سامنا کرنا پڑا ہو، مگر اسلام آباد جیسے حساس مقام پر پریس کلب کو نشانہ بنانا ملک میں میڈیا کیلیے خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف حکومت آزادی صحافت کے تحفظ کے بلند و بانگ دعوے کرتی ہے اور دوسری جانب انہی اداروں کے اہلکار میڈیا کو دبانے کیلیے طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔ ہم اس غیر جمہوری رویے کی شدید مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ واقعے ملوث اہلکاروں اور ذمہ داران کیخلاف کارروائی نہ کی گئی تو ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ یہ محض ایک کلب پر حملہ نہیں بلکہ صحافت کی اجتماعی آواز کو دبانے کی کوشش ہے۔ پریس کلب کسی ایک ادارے کی ملکیت نہیں بلکہ ملک بھر کے صحافیوں کا گھر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پریس کلب
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔