data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ابوظبی (انٹرنیشنل ڈیسک) امارات اور آسٹریلیا کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سیپا) باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اماراتی خبررساں ادارے وام کے مطابق یہ معاہدہ سامان اور خدمات کی تجارت، نجی شعبے کے تعاون اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع کھولنے کا باعث بنے گا۔ توقع ہے کہ اس سے دوطرفہ سالانہ تجارت 2024 ء میں 4.

2 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر 2032 ء تک 10 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ صرف 2025 ء کی پہلی ششماہی میں متحدہ عرب امارات کی غیر تیل غیر ملکی تجارت آسٹریلیا کے ساتھ 3.03 ارب ڈالر تک پہنچی جو سالانہ بنیاد پر 33.4 فیصد اضافہ ہے۔ معاہدے کے تحت غیر ضروری تجارتی رکاوٹوں میں کمی، اشیا و خدمات کی مارکیٹ تک زیادہ رسائی اور سرمایہ کاری کے لیے مضبوط فریم ورک فراہم کیا گیا ہے جس سے توانائی، انفراسٹرکچر، غذائی تحفظ اور ٹیکنالوجی جیسے اہم شعبوں میں نئی راہیں کھلیں گی۔وزیر برائے غیر ملکی تجارت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے کہا کہ امارات آسٹریلیا سیپا کا نافذ ہونا ہماری اقتصادی شراکت داری کو بڑھانے کی ایک کلیدی پیش رفت ہے، جو تعاون اور ترقی کے نئے مواقع فراہم کرے گی۔ ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو نمایاں طور پر مستحکم کرتا ہے اور سرمایہ کاری کے دروازے کھولتا ہے۔ امارات مشرق وسطیٰ میں آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور عالمی سطح پر اس کا بیسواں بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ آسٹریلیا نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا (مینا) خطے کے کسی ملک کے ساتھ تجارتی معاہدہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے اب تک ایک دوسرے کی معیشت میں 14 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے ۔

انٹرنیشنل ڈیسک گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری ا سٹریلیا کے درمیان

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی