عالمی دباؤ سے نکلنے کیلئے اسرائیل نے امریکی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو خریدنا شروع کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ میں جاری مظالم کے باعث بڑھتی ہوئی عالمی مخالفت اور دباؤ سے نکلنے کے لیے اسرائیل نے امریکی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کو خریدنا شروع کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکومت انفلوئنسرز کو سوشل میڈیا پر اسرائیل کے حق میں مواد شیئر کرنے کے عوض فی پوسٹ سات ہزار ڈالر تک ادا کر رہی ہے۔ امریکی فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ کی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ فنڈنگ حکومتِ اسرائیل ہیوس (Havas) میڈیا گروپ کے ذریعے کر رہی ہے، اور نو لاکھ ڈالر کے ابتدائی بجٹ کا نصف حصہ امریکی انفلوئنسرز کی بھرتی اور تربیت پر خرچ کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے ٹرمپ کے سابق ڈیجیٹل کیمپین اسٹریٹجسٹ بریڈ پارسکیل کو بھی ماہانہ 15 لاکھ ڈالر پر مقرر کیا ہے تاکہ وہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ہزاروں اسرائیل نواز پیغامات تیار کریں۔
گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکا کے دورے کے دوران نیویارک میں امریکی انفلوئنسرز کے ایک گروپ سے ملاقات کی، جہاں ان سے پوچھا گیا کہ وہ اسرائیل کی کم ہوتی حمایت کو دوبارہ کیسے حاصل کریں گے۔ جواب میں نیتن یاہو نے کہا کہ “ہمیں مقابلہ کرنا ہوگا، اور ہم اپنے انفلوئنسرز کے ذریعے یہ مقابلہ کریں گے۔”
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو مئی کے بعد پہلی مرتبہ اس نفسیاتی حد سے اوپر پہنچی ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق جمعرات کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت میں 6 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خطے میں فوجی کشیدگی مزید بڑھی تو عالمی سطح پر خام تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے باعث خریداری میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹس کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملے ہیں۔ بحیرہ احمر اور باب المندب دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں شمار ہوتے ہیں، جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر تجارتی سامان کی ترسیل کی جاتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہے، کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں پیٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور صنعتی پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔
ماہرین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر کشیدگی آبنائے ہرمز تک پھیل گئی، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے، تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہونے کا امکان ہے۔