معروف امریکی جریدے نے لکھا ہے کہ اسرائیلی رژیم کیلئے امریکہ کی اندھی حمایت مغربی ایشیا میں واشنگٹن کے اثر و رسوخ کو غیر معمولی حد تک کم کر دیگی اسلام ٹائمز۔ معروف امریکی جریدے فارن افیئرز نے گیلپ ڈالے اور صنم وکیل کے قلم سے تحریر شدہ؛ "مشرق وسطی جو اسرائیل نے بنایا ہے؛ کیوں واشنگٹن اسرائیلی جارحیت کی قیمت چکانے پر پچھتائے گا" کے عنوان سے چھپنے والے اپنے مقالے میں خطے بھر میں امریکی موقف و اثر و رسوخ پر تل ابیب کی پالیسیوں کے برے نتائج کا جائزہ لیا ہے۔ فارن افیئرز نے امریکی سیاستدانوں کو خبردار کیا کہ اسرائیلی اقدامات نے مشرق وسطی کو غیر متوقع طور پر بدل کر رکھ دیا ہے؛ غزہ میں اسرائیلی جنگ، اس کی توسیع پسندانہ فوجی پالیسیاں اور اس کے نظر ثانی پر مبنی موقف نے اس خطے کو یوں بدل کر رکھ دیا ہے کہ جس کی توقع کسی کو نہ تھی!

امریکی تھنک ٹینک چیٹھم ہاؤس میں سینیئر کنسلٹنک فیلو اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے سینٹ اینتھونی کالج میں نظریاتی محقق گیلپ ڈالے نے اس مقالے میں تاکید کی ہے کہ طاقت کو مستحکم کرنے کے بجائے، اسرائیل نے اپنے سابقہ ​​شراکتداروں کو بھی "ہوشیار دشمن" میں تبدیل کر دیا ہے اور یہ کہ اب "اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے پیچھے کی منطق" بھی بے نقاب ہو رہی ہے۔ اس مقالے کے لکھاریوں نے وضاحت کی کہ اسرائیل نے غیر مشروط و اندھی امریکی حمایت کے ساتھ، فلسطین، لبنان، یمن، شام، اور ایران سمیت 7 ممالک پر حملے کئے، خاص طور پر دوحہ، قطر میں حماس کے رہنماؤں پر فضائی حملہ کیا کہ جس نے اس ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی اور شدید غم و غصے کو جنم دیا۔

چیٹھم ہاؤس میں مشرق وسطی و شمالی افریقہ پروگرام کی ڈائریکٹر اور پیشرفتہ بین الاقوامی مطالعات (SAIS) کی پروفیسر صنم وکیل نے لکھا کہ اسرائیل کے "پیشگی دفاع کے نظریئے" کہ جو خودمختاری کی کھلی خلاف ورزیوں پر مشتمل ہے، نے نہ صرف عرب ممالک کو بھی غیر محفوظ کر دیا ہے بلکہ "اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات" کو بھی ایک "کٹھن ذمہ داری" بنا کر رکھ دیا ہے۔ امریکی مصنفین نے لکھا کہ ان اقدامات نے نہ صرف اسرائیل کو تنہا کیا ہے بلکہ امریکی اثر و رسوخ پر بھی بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے… کیونکہ اسرائیل کے لئے امریکہ کی مسلسل حمایت خطے میں واشنگٹن کی پوزیشن کو کمزور بناتی ہے جیسا کہ خلیج (فارس) کے حکمرانوں نے نہ صرف اسرائیل کو غیر متوقع و جارحانہ، بلکہ سلامتی سے متعلق امریکی ضمانتوں کو بھی ناقابل اعتبار پایا ہے!

اس تجزیئے کے مطابق مصر کے ساتھ اسرائیل کے باہمی تعلقات؛ کہ جنہوں نے، 1979 کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد سے لے کر اب تک، 4 دہائیوں سے زیادہ کے عرصے تک، امن و امان برقرار رکھا ہے، اب تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں جیسا کہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے ستمبر 2025 میں اسرائیل کو ایک "دشمن" قرار دیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون میں بھی کمی آئی ہے۔ امریکی لکھاریوں نے لکھا کہ مصر نے اسرائیل کو واضح پیغام دینے کے لئے ترکی کے ساتھ مشترکہ بحری مشقیں بھی کیں کیونکہ جنگ غزہ نے سب کچھ ہی بدل کر رکھ دیا ہے.

. جہاں قاہرہ و تل ابیب قبل ازیں توانائی و سلامتی پر مل کر کام کر رہے تھے..!

امریکی جریدے نے لکھا کہ خلیج فارس میں 2020 کے ابراہیمی معاہدے، کہ جس نے متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان کو بھی اسرائیل کے قریب پہنچایا، نیز اب ایک "اندرونی" اور "اسٹریٹجک" خطرہ بن چکا ہے۔ امریکی مصنفین کے مطابق سعودی عرب کہ جو تل ابیب کے ساتھ باہمی تعلقات کو معمول پر لانے کے لئے شدید امریکی دباؤ میں گھرا ہوا تھا، اب "اسرائیل کا اسٹریٹجک پارٹنر" بننے کے بارے "سخت تذبذب" کا شکار ہو چکا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی اسرائیل دوستی کی بھاری قیمت چکائی ہے کیونکہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنے کے حوالے سے عرب ممالک میں عوامی حمایت انتہائی کم ہے جیسا کہ مغرب (مراکش) میں، ایسے معاہدوں کی حمایت؛ 2022 میں 31 فیصد تھی جو 2023 میں مزید کم ہو کر 13 فیصد رہ گئی۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی بھی اسرائیل کو ایک "سنگین خطرے" کے طور پر دیکھتا ہے، فارن افیئرز کے تجزیہ کاروں نے لکھا کہ ترکی نے اسرائیل کے ساتھ تجارت معطل کر رکھی ہے اور اسرائیلی پروازوں کے لئے اپنی فضائی حدود بھی بند کر دی ہیں، خاص طور پر شام میں اسرائیل کے اقدامات کہ جنہوں نے اس کی سرحدوں اور پناہ گزینوں کے بہاؤ کو متاثر کیا ہے، کے بعد۔

اپنی تحریر کے آخر میں امریکی مصنفین نے خبردار کیا کہ کلیدی مسئلہ "فلسطین کا منصفانہ حل" ہے، اور یہ کہ امریکہ فلسطینیوں کے مصائب اور اسرائیل کی توسیع پسندی کو کسی طور نظر انداز نہیں کر سکتا۔ گیلپ ڈالے اور صنم وکیل نے اس بات پر بھی خبردار کیا کہ "اسرائیل کو لگام نہ ڈالنے سے" واشنگٹن، مغربی ایشیا میں اپنے موجود اپنے وسیع اسٹریٹجک انفراسٹرکچر کو تیزی کے ساتھ تباہ کر رہا ہے!

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسرائیل کے ساتھ کر رکھ دیا ہے کہ اسرائیل اسرائیل کو نے لکھا کہ کے لئے کیا کہ کو بھی

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم