مشرق وسطیٰ کا مسئلہ 3 ہزار سال بعد حل ہو سکتا ہے؛ غزہ کے ساتھ پورے حطے میں امن ہوگا، صدر ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے، ہم اب تک سات جنگیں ختم کرا چکے ہیں اور لگتا ہے غزہ کی جنگ آٹھویں ہوگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ لگتا ہے مشرق وسطیٰ کا مسئلہ تقریباً تین ہزار سال بعد حل ہو سکتا ہے۔ غزہ کے ساتھ پورے مشرق وسطیٰ میں امن ہوگا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں مجموعی طور پر امن قائم ہو گا یہ حیران کن کامیابی ہوگی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم صرف غزہ نہیں بلکہ غزہ میں امن کے ساتھ مکمل امن حاصل کریں گے، ایسا ہونا حیرت انگیز کامیابی ہوگی۔
“We’ve put out seven wars — now it could be eight… It looks like the Middle East could very well be solved,” says @POTUS.
“We’re going to have Gaza plus PEACE, overall peace. That would be an amazing achievement.” pic.twitter.com/8iVc6Ff641
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) October 2, 2025
ایک سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر شٹ ڈاؤن جاری رہا تو حکومت لوگوں کو نوکریوں سے فارغ اور پروجیکٹس میں کٹوتی کرسکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ڈیموکریٹک اکثریت رکھنے والی ریاستوں کے لیے مختص 26 ارب ڈالر کے فنڈز منجمد کر دیے ہیں۔ منجمد کیے گئے فنڈز میں سب سے بڑا حصہ نیویارک کے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے مختص اٹھارہ ارب ڈالر کا ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے امن تجاویز قبول کرنے کے لیے ریڈ لائن مقرر کردی ہے، حماس کو مخصوص وقت دیا گیا ہے کیرولائن لیویٹ کے مطابق امریکی صدر کا منصوبہ بہت اچھا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔