بھارت چہیتے میچ ریفری پائی کرافٹ کو سر آنکھوں پر بٹھانے لگا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
کراچی:
بھارت اپنے چہیتے میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ کو سر آنکھوں پر بٹھانے لگا۔
ایشیا کپ کے دوران تنازع کا باعث بننے والے پائی کرافٹ ہی گزشتہ روز احمد آباد میں شروع ہونے والے بھارت اور ویسٹ انڈیز کے درمیان پہلے ٹیسٹ کے میچ ریفری ہیں۔
ٹاس کے موقع پر سابق بھارتی کرکٹر اور موجودہ کمنٹیٹر روی شاستری نے اپنی جانب سے پاکستان پر چوٹ کرنے کیلئے کہا کہ ’اینڈی پائی کرافٹ کی دبئی سے براہ راست ہاٹ سیٹ پر گھر واپسی‘۔ ان کے اس فقرے پر بھارتی شائقین بہت خوش ہورہے ہیں۔
یاد رہے کہ ایشیا کپ میں پاک بھارت کرکٹ میچ میں ریفری اینڈی پائی کرافٹ کے متنازع کردار پر پاکستان نے ان کیخلاف شدید احتجاج کیا تھا۔
پاکستان نے یو اے ای کیخلاف میچ میں اینڈی پائی کرافٹ کو ذمہ داریاں دینے پر میچ کے بائیکاٹ کا بھی فیصلہ کیا تھا، پاکستان کے مطالبے پر آئی سی سی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں پی سی بی اور آئی سی سی کے درمیان اس معاملے پر کافی دیر ڈیڈلاک رہا جو بعدازاں ختم ہوا۔
اس دوران پی سی بی کے حکم پر قومی ٹیم ہوٹل میں ہی رہی اور میچ کھیلنے نہیں گئی، اس دوران میچ کھیلنے کا وقت آئی سی سی نے ایک گھنٹہ بڑھادیا گیا۔
پی سی بی نے اپنے حتمی فیصلے سے آئی سی سی کو آگاہ کیا جس پر آئی سی سی نے معاملے کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے جب کہ میچ ریفری اینڈی پائی کرافٹ نے معافی مانگ جس پر پی سی بی نے قومی ٹیم کو اسٹیڈیم جانے کا گرین سگنل دیا بعدازاں دبئی کے ہوٹل میں موجود ٹیم میچ کھیلنے کے لیے اسٹیڈیم پہنچی اور یو اے ای سے میچ کھیلا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اینڈی پائی کرافٹ میچ ریفری پی سی بی
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔