ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن منصوبے کے جائزے کے لیے ابھی مزید وقت درکار، اعلیٰ حماس عہدیدار ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے جائزے کے لیے مزید وقت درکار، اعلیٰ حماس عہدیدار

غزہ پٹی سے جمعہ تین اکتوبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کیے جانے کی شرط پر نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ہفتے واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی موجودگی میں غزہ پٹی سے متعلق جو نیا امن منصوبہ پیش کیا تھا، اس کے تفصیلی جائزے کے لیے حماس کو ابھی مزید وقت درکار ہے۔

غزہ سٹی کے تمام فلسطینی وہاں سے نکل جائیں، اسرائیلی وزیر دفاع

اس عہدیدار نے کہا، ’’ٹرمپ کے نئے منصوبے سے متعلق حماس کی مشاورت جاری ہے، اور غزہ پٹی کے تنازعے کے ثالثوں کو اطلاع کر دی گئی ہے کہ تاحال جاری مشاورت کی تکمیل کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے۔

(جاری ہے)

‘‘

ٹرمپ کی طرف سے حماس کو دی گئی ’تین چار دن‘ کی مہلت

صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی میں اس امن منصوبے کو قبول کرنے کے لیے حماس کو ’’تین چار دن‘‘ کی مہلت دی تھی، تاکہ اس پر عمل کرتے ہوئے غزہ پٹی میں اسرائیل اور حماس کے مابین اس خونریز جنگ کو ختم کیا جا سکے، جس کے سات اکتوبر کو ٹھیک دو سال پورے ہو جائیں گے۔

اسرائیل کا غزہ فلوٹیلا کے گرفتار کارکنان کو ملک بدر کرنے کا اعلان

اس امن منصوبے میں غزہ پٹی میں ایسی جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس پر عمل درآمد کے آغاز کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر اندر تمام اسرائیلی یرغمالی رہا کیے جانا چاہییں۔


اس کے علاوہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس، جس کے اسرائیل میں سات اکتوبر 2023ء کے دہشت گردانہ حملے اور اس کے فوری بعد اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے ساتھ غزہ کی جنگ شروع ہوئی تھی، کو خود کو غیر مسلح کرنا ہو گا۔

مزید یہ کہ اسرائیل بھی غزہ پٹی سے اپنے فوجی دستے بتدریج واپس بلا لے گا۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ پٹی کا شمالی غزہ سے آخری رابطہ بھی منقطع کر دیا

اس امن منصوبے کا عرب دنیا، زیادہ تر مسلم ممالک اور یورپی یونین سمیت بین الاقوامی برادری نے خیر مقدم کیا ہے۔

تاہم اس بارے میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے رکن محمد نزال نے آج جمعے کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا، ’’اس منصوبے میں ایسے نکات بھی شامل ہیں، جن پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ہم اس حوالے سے جلد ہی اپنے موقف کا اعلان کر دیں گے۔‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مزید وقت درکار جائزے کے لیے ٹرمپ کے غزہ پٹی

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بجٹ پاس کرنےکی بات کی تو علیمہ خان نے ٹوک دیا
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان