لاہور:

صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری  نے مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم کے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپنے صوبے کی خبر نہیں اور پنجاب پر تنقید؟۔

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے مشیر خزانہ کے پی کے مزمل اسلم کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جس کو دیکھو وہ منہ اٹھا کر پنجاب پر انگلی اٹھانے آجاتا ہے۔ جنہیں اپنے صوبے کی خبر نہیں، ان کے ہاں دہشت گردی، کرپشن، لاقانونیت اور بدانتظامی روزانہ دروازے پر دستک دیتی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بونیر، صوابی اور سوات میں سیلاب سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے، کیا ان سب کو خیبرپختونخوا حکومت نے امداد فراہم کر دی؟ انہوں نے کہا کہ آپ کے وزیراعلیٰ ہر مہینے وفاق کو فنڈز کے لیے خط لکھتے ہیں اور خود شیخ چلی کی طرح شیخیاں بگھار رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  خیبرپختونخوا کابینہ کے دو وزرا نے وزیراعلیٰ کی کرپشن کی کہانیاں سنا کر استعفے دیے ہیں، جبکہ پنجاب میں سیلاب متاثرین کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔ صوبے کے 27 اضلاع میں 1857 ٹیمیں سیلاب متاثرین کے سروے میں مصروف ہیں جو کسانوں، مکانات، فصلوں اور مویشیوں کے نقصانات کا ڈیٹا جمع کر رہی ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب سے 45 لاکھ افراد متاثر ہوئے، یہ کوئی معمولی بات نہیں اور اس قدر بڑے پیمانے پر سروے مکمل ہونے میں وقت لگے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز خود ہر متاثرہ شخص کے پاس جا کر مدد فراہم کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ مریم نواز ایک خوددار لیڈر کی بیٹی ہیں، وہ کسی کے سامنے مدد کے لیے ہاتھ نہیں پھیلائیں گی، جنہیں چندے اور امداد کھانے کی عادت ہو، وہی دوسروں کو بھی اسی کا درس دیتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میں سیلاب نے کہا کہ ہیں اور

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی