سعودیہ سے معاہدہ ایک نیٹو طرز کا اتحاد بن جائیگا: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے بعد کئی عرب اور دیگر مسلم ممالک دفاعی معاہدے کا حصہ بننا چاہتے ہیں، دیگر ممالک کی شمولیت کے بعد یہ ایک نیا نیٹو طرز کا اتحاد بن جائے گا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہائیوں سے ہمارا سعودی عرب سے جو تعلق ہے وہ ڈھکا چھپا نہیں، ہر پاکستانی اپنی جان سے زیادہ حرم کی حفاظت کا جذبہ رکھتا ہے، اللّٰہ نے ہمیں بھی خادم حرمین بنادیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاک سعودی دفاعی معاہدے کی تفصیلات بتائیں گے، سعودی عرب کے بعد کئی عرب اور دیگر مسلم ممالک معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، یہ ایک نیا نیٹو یا مشرقی نیٹو بن جائے گا۔
اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ سے غزہ میں جنگ بندی کے ایک نکاتی ایجنڈے پر بات ہوئی، غزہ میں مکمل جنگ بندی ضروری ہے
ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے تحت ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور ہوگا، جس طرح بھارت نے حملہ کیا تھا تو یہ معاہدہ ہوتا تو اسے سعودی عرب پر بھی حملہ تصور کیا جاتا، ہم اللّٰہ کے بے پناہ شکر گزار ہیں کہ یہ معاہدہ ہمارے دور میں ہوا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اسلامی دنیا کا محافظ بن گیا ہے، جو قومی راز ہمارے سینے میں ہیں وہ نہ کبھی سامنے آئے نہ آئندہ آئیں گے اور یہ راز ہمارے سینے میں ہی دفن رہیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔