لوگ سوال کرتے ہیں مغربی لباس اور نیل پالش میں نماز قبول ہوگی؟ یشما گل
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اداکارہ یشما گل کا کہنا ہے کہ میں مذہبی معاملات پر لوگوں کے سوالوں کا جواب دینا اہم نہیں سمجھتی اللہ دلوں کا حال بہتر جانتا ہے۔
ایک حالیہ انٹرویو میں اداکارہ یشما گل نے بتایا کہ ایک ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران وقفے میں وہ نماز ادا کرنے گئیں، اس وقت انہوں نے مغربی لباس پہن رکھا تھا اور ناخنوں پر نیل پالش بھی لگی ہوئی تھی۔
اس موقع پر کاسٹ میں شامل ایک جونیئر اداکارہ نے سوال کیا کہ ’’آپ کی نماز کیسے قبول ہوگی؟‘‘۔ یشما گل نے بتایا کہ انہوں نے اس موقع پر کوئی جواب نہیں دیا لیکن دل میں یہ سوچا کہ عبادت قبول کرنا انسانوں کا نہیں بلکہ اللہ کا اختیار ہے اور وہ میرے معاملات بہتر جانتا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی طالب علم امتحان میں شریک ہی نہ ہو تو یقیناً وہ فیل ہو جاتا ہے، لیکن جو طالب علم امتحان میں بیٹھ جائے تو اسے کچھ نہ کچھ نمبر مل ہی جاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ بہتر جانتے ہیں کہ کس کی عبادت کو کس طرح قبول کرنا ہے۔
اداکارہ نے مزید کہا کہ نماز کی ادائیگی کے لیے مقررہ طریقہ کار اور آداب کو ضرور اپنانا چاہیے، تاہم اگر کسی صورت میں مکمل پروٹوکول ممکن نہ ہو تو بھی نماز ترک کرنے کے بجائے کم از کم فرض ادا کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یشما گل
پڑھیں:
’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے اپنی زندگی سے متعلق ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے مداحوں کو حیران کر دیا۔ معروف گلوکار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے آبائی علاقے عیسیٰ خیل میں اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے اور وہ آخرت کی تیاری کو زندگی کا اہم ترین حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے اس بیان نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں صارفین اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے حال ہی میں صحافی ارشاد بھٹی کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی زندگی، موسیقی اور ذاتی خیالات پر کھل کر گفتگو کی۔ اس دوران انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا رکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے۔ میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، مکمل بن چکی ہے۔ اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا ورنہ بعد میں خود ہی دیکھ لیں گے۔ ہمارا اپنا خاندانی قبرستان بھی ہے، جہاں میں نے اپنے لیے ایک قبر مخصوص کر رکھی ہے۔ اس کے ساتھ چند جگہیں اور بھی ہیں جن میں سے ایک کے بارے میں میں نے مذاق میں کہا تھا کہ وہ میری اہلیہ کے لیے ہے لیکن ساتھ ہی کہا کہ مذاق کر رہا ہوں حقیقت میں صرف اپنی قبر محفوظ کروائی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم فرمائے۔
گلوکار نے قبر کے بارے میں بتایا کہ یہ خیال اس وقت آیا جب میں نے ایک فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروائی۔ پھر سوچا کہ میرے لیے بھی ایک جگہ ہونی چاہیے۔ میں اپنے کئی قریبی دوستوں، عزیزوں، خاندان کے افراد اور اپنی والدہ کو کھو چکا ہوں، اسی لیے موت کا خیال ہمیشہ ذہن میں رہتا ہے۔ میری صرف یہی دعا ہے کہ اللہ مجھے پُرسکون موت عطا فرمائے۔
یہ بھی پڑھیں: عطااللہ عیسیٰ خیلوی کس کے لکھے گانے گا کر مشہور ہوئے؟
عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آنے لگیں۔ ایک صارف نے لکھا قبر پہلے سے بنوانا درست نہیں البتہ کفن کی تیاری کی جا سکتی ہے۔
ایک اور نے تبصرہ کیا صرف قبر تیار کر لینا کافی نہیں، اصل تیاری آخرت کی ہونی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ان کا ایمان مضبوط ہے، ہم تو قبر کا ذکر کرنے سے بھی گھبراتے ہیں جبکہ ایک اور صارف کا کہنا تھا قبر بنانے کے بجائے اگر اولڈ ایج ہوم بنا دیتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
عطااللہ عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی عیسیٰ خیلوی قبر قبر گلوکار ویڈیو وائرل