میری گاڑی میں سی سی ٹی وی، وائی فائی نہیں، عوام کی گاڑی میں لگوایا، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
اسکرین گریب
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ میری گاڑی میں سی سی ٹی وی، وائی فائی نہیں ہے اور چارجر نہیں ہے، عوام کی گاڑی میں لگوایا ہے۔
لاہور میں الیکٹرک بس پروجیکٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ لاہور میرا، نواز شریف اور شہباز شریف کا گھر ہے، لاہور میں جگہ جگہ نواز شریف کی محبت اور خدمت کے آثار نظر آتے ہیں، لوگ لاہور آتے ہیں تو کہتے ہیں دوسرے ملک میں آگئے، لوگ کہتے ہیں کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ ہمیں دے دیں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ میانوالی میں بس سسٹم نہیں تھا، حالانکہ ایک شخص میانوالی سے اقتدار کی کرسی پر پہنچا، دسمبر تک لاہور میں مزید 70 بسیں آجائیں گی، شیخوپورہ، لاہور اور قصور ڈویژن میں ملا کر 500 بسیں بنتی ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ لاہور میں دی جانے والی خدمات کا دائرہ پورے پنجاب تک بڑھا دیا ہے، میں نہیں چاہتی کہ کہا جائے مریم نواز صرف لاہور کو ترقی دے رہی ہے، جو معذور افراد گرین بس پر آتے ہیں اگر ان کے پاس وہیل چیئر نہیں تو ان کا ڈیٹا اکٹھا کر کے گھر وہیل چیئر پہنچائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج میری گاڑی میں اتنی سہولتیں نہیں ہیں جتنی پنجاب کے عوام کو دی جانے والی گاڑیوں میں ہیں، میٹرو بس یو یا اورنج ٹرین آغاز لاہور سے ہی ہوا، پنجاب کے کونے کونے میں الیکٹرک بس سروس شروع کر رہے ہیں، پورے پنجاب کی ترقی میرا مشن ہے، پنجاب میں تعلیم اور پینے کے صاف پانی کی قلت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لاہور میں مریم نواز نے کہا کہ گاڑی میں
پڑھیں:
نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ نواز شریف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن سے این او سی لیکر وہاں گئے تھے، کوئی حکومتی وزیر گلگت بلتستان نہیں گیا نہ کسی نے وہاں مہم چلائی۔
پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان گلگت بلتستان میں جلسے کر رہے ہیں، میٹنگز کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نہیں روک رہا۔
رانا ثنا نے کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر خان اجازت لیکر جا سکتے ہیں تو سلمان اکرام راجا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا کوئی اُمیدوار مقابلے میں ہے ہی نہیں، وہاں صاف، شفاف اور کریڈیبل انتخابات ہونگے۔