اسلام آباد: سفارتی ذرائع کے مطابق افغانستان کے حوالے سے اہم سفارتی سرگرمیوں کا سلسلہ آئندہ ہفتے روس میں شروع ہوگا۔ چہار ملکی اجلاس 6 اکتوبر کو ماسکو میں منعقد ہوگا جس میں پاکستان، ایران، روس اور چین کے نمائندے شریک ہوں گے۔

پاکستان کی نمائندگی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان محمد صادق خان کریں گے، چین کی نمائندگی خصوصی ایلچی یوی ژاو ¿ ینگ، ایران کی جانب سے حسن کاظمی قمی جبکہ روس کی نمائندگی خصوصی ایلچی ضمیر کابلوف کریں گے۔

اجلاس میں افغانستان کی موجودہ صورتحال اور علاقائی سکیورٹی پر تفصیلی غور ہوگا جبکہ انسداد دہشت گردی اور خطے میں تعاون کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق افغانستان پر وزرائے خارجہ کا چہار ملکی اجلاس 25 ستمبر کو نیویارک میں منعقد ہوا تھا، جس کے بعد 28 ستمبر کو پاکستانی نمائندہ خصوصی محمد صادق نے ایران کا دورہ بھی کیا۔پاکستان 7 اکتوبر کو ماسکو فارمیٹ اجلاس میں بھی شرکت کرے گا، جس میں محمد صادق خان ہی پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس اجلاس میں سکیورٹی، انسداد دہشت گردی، منشیات کی روک تھام اور افغان مہاجرین کے مسائل پر گفتگو ہوگی۔

ماسکو فارمیٹ اجلاس میں روس، پاکستان، چین، ایران، افغانستان اور بھارت کے علاوہ قازقستان، کرغیزستان، ازبکستان اور تاجکستان کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔ اجلاس میں افغانستان کو پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر رکن ملک کے طور پر خوش آمدید کہا جائے گا۔ افغان عبوری وزیر خارجہ ملا امیر متقی بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ان نشستوں کا بنیادی مقصد افغانستان میں امن و استحکام، علاقائی تعاون اور مشترکہ سیکیورٹی کے اقدامات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: کی نمائندگی اجلاس میں

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل