کراچی:

پاکستان وہیل چیئر کرکٹ ٹیم نے افغانستان کے خلاف سیریز کے آخری ٹی20 میچ میں گوہر آفریدی اور اسامہ طارق کی شان دار نصف سنچریوں کی بدولت با آسانی 9 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز 1-3 سے جیت لی۔

کراچی کے یوبی ایل اسپورٹس کمپلیکس میں کھیلے گئے میچ میں افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 155 رنز بنائے، جابر صافی نے 38 رنز کی نمایاں اننگز کھیلی، زر عالم 23 اور رحیم اللہ 14 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔

پاکستان کی جانب سے محمد فیاض نے بہترین بولنگ کرتے ہوئے دو وکٹیں حاصل کیں، ایوب اور احمد یار نے ایک،ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے جارحانہ آغاز کرتے ہوئے محض 14.

4 اوورز میں ایک وکٹ کے نقصان پر 156 رنز بنا کر فتح حاصل کرلی۔

گوہر آفریدی نے 41 گیندوں پر 64 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی جس میں 14 چوکے شامل تھے، اسامہ طارق بھی 60 رنز کے ساتھ ناقابل شکست رہے، محمد فیاض نے 24 رنز بنائے۔

افغانستان کی جانب سے میر اکبر واحد بولر تھے جنہوں نے ایک وکٹ حاصل کی۔

پاکستان کے محمد فیاض کو سیریز میں آل راؤنڈ پرفارمنس پر ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی اور گوہر آفریدی کو آخری میچ میں زبردست اننگز کھیلنے پر ین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

پاکستان وہیل چیئر کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد ذیشان نے سیریز کی کامیابی کو پاک فوج اور شہدا کے نام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فتح ان جوانوں کے نام ہے جنہوں نے وطن عزیز کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ اپنی جان اور اپنے اہل خانہ کی پرواہ کیے بغیر قربانیاں دیتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کامیابی دراصل وہیل چیئر کرکٹ کی جیت ہے، ہم نے افغانستان کرکٹ کے فروغ کے لیے بھی بھرپور تعاون کیا، جس کے نتیجے میں افغان وہیل چیئر کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کرنے میں کامیاب ہوئی۔

اس موقع پر افغانستان کرکٹ ٹیم کے کپتان منصور عادل نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار انٹرنیشنل سیریز کھیلنے پر ہمیں بے حد خوشی ہے، ہمارے کھلاڑیوں نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ کرکٹ کھیلی اور امید ہے کہ ایشیا کپ میں بھی بہتر پرفارم کریں گے۔

انہوں نے پاکستان وہیل چیئر کرکٹ کونسل اور انتظامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی میزبانی اور مہمان نوازی نے ہمیں بے حد متاثر کیا، جس پر ہم تہہ دل سے مشکور ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی